انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 219

انوار العلوم جلد 25 219 متفرق امور خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑی کامیاب ہے اور اس کی بہت تعریفیں آرہی ہیں۔وہ فوج میں بھی دی گئی تھی۔فوج کی لیبارٹری نے اس کو ٹیسٹ کر کے کہا ہے کہ یہ سو فیصدی ٹھیک ہے اور آرڈر دیئے ہیں۔اِس طرح بعض احمدیوں کو اللہ تعالیٰ اخلاص دے دیتا ہے حالانکہ میں کہہ تو سارے احمدیوں کو رہا ہوں لیکن ایک احمدی راولپنڈی میں دکاندار کے پاس گیا اور اس نے ان کو تحریک کی اور پچاس گرس2 (GROSS) کا آرڈر لا کر دیا۔اور اس نے کہا کہ اور بھی میں کوشش کروں گا انشاء اللہ تعالیٰ آپ کو کافی آرڈر آجائیں گے۔اگر فوج نے آرڈر دینے شروع کر دیئے جیسے انہوں نے منظوری دے دی ہے تو ، انشاء اللہ اور ترقی ہو جائے گی۔اسی طرح انہوں نے ایک نائیٹ لیمپ ایجاد کیا ہے۔یہ لیمپ قادیان میں میاں محمد احمد نے بنایا تھا اور اس کا نام میک لائیٹ رکھا ہوا تھا۔وہ ساری رات بھی جلتا رہے تو مہینہ بھر میں کوئی آٹھ آنے کی بجلی جلتی تھی۔یہ کتنے بڑے نفع کی چیز تھی۔اس کا اتنا اثر تھا کہ کراچی میں مجھے بعض مسلمان افسر ملے، بعض ہندو بھی ملے جنہوں نے وہ استعمال کیا ہوا تھا اور انہوں نے مجھے کہا کہ قادیان کی میک لائٹ بڑی عمدہ چیز ہوتی تھی وہ اب نہیں ملتی حالانکہ ہم نے بڑی تلاش کی ہے۔بمبئی میں ایک بڑا افسر رہا ہے وہ کہنے لگا کہ مجھے میک لائٹ کی بڑی تلاش ہے۔میں نے کہا ان بیچاروں کا تو کار خانہ ہی تباہ ہو گیا ہے۔لیکن اب وہ لیمپ تحریک نے نکال لیا ہے اور اس کا نام انہوں نے نائیٹ لائٹ رکھا ہے۔وہ چھوٹا سا بلب ہے اور وہ اتنی تھوڑی بجلی خرچ کرتا ہے کہ ساری رات جلاتے رہو تو پھر بھی کوئی آٹھ آنے خرچ ہوتے ہیں۔روشنی کی روشنی رہتی ہے اور رات کو اندھیرے کی گھبراہٹ نہیں ہوتی۔پس اگر تم تحریک کا مال خرید و یا اور مصنوعات جو ربوہ کی ہیں وہ خرید و تو لازماً اس سے چندہ بڑھے گا۔ربوہ کی انڈسٹری کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے نفع میں تحریک کا اور سلسلہ کا حصہ رکھے تاکہ میری تحریک دنیوی نہ بنے بلکہ دینی بنے۔یہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی چیزیں ایسی بننے لگ گئی ہیں جن میں سے بعض ہندوستان میں بھی نہیں بنتیں۔