انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 217

انوار العلوم جلد 25 217 متفرق امور ہمیشہ خواہش ہوتی تھی کہ میں حضرت صاحب کو سونا نذرانہ کے طور پر پیش کروں۔میں سارا مہینہ پیسے جمع کرتا رہتا تھا اور کہتا تھا کہ میں نے قادیان بھی ضرور جانا ہے مگر پیدل جاؤں گا تو پیسے جمع کروں گا اس لئے کہ حضرت صاحب خدا تعالیٰ کے بڑے مقرب اور مسیح موعود ہیں اُن کو نذرانہ دینا ہے تو سونا دینا ہے مگر سونا کبھی نہیں ہو تا تھا۔باوجود یکہ میں پیدل آتا تھا پھر بھی روپے بنتے تھے سونا نہیں بنتا تھا ( اس وقت وہ تحصیلدار ہو گئے تھے مگر ریاستوں میں تحصیلداروں کی تنخواہ بھی کم ہوتی ہے۔بہر حال اُن کی تنخواہ اُس وقت اتنی تھی کہ وہ قربانی کر کے سونا بنا سکتے تھے ) انہوں نے یہ کہا اور پھر چکی لی اور پھر چیچنیں مار کر رونے لگ گئے۔پھر کہنے لگے "ساری عمر جوڑ جوڑ کے اس انتظار وچ رہے کہ حضرت صاحب نوں ملاں گے تو سونا نذرانہ دیاں گے۔جب تک حضرت صاحب رہے سونا نہیں لبھیا۔جدوں سونا لبھیا تے حضرت صاحب نہیں رہے" پھر مجھے پتا لگا کہ اس شخص کے دل میں کتنا اخلاص اور کتنی محبت تھی۔تو چاہئے کہ تم بھی صحابہ والا رنگ اختیار کرو، زیادہ سے زیادہ ربوہ آؤ اور زیادہ سے زیادہ مجھ سے مل کر اور دوسرے دوستوں سے مل کر کوشش کرو کہ تمہارا علم بڑھے۔اور پھر سلسلہ کی کتابیں خرید و اور ان کو پڑھو۔ہمارے سلسلہ کی کتابوں میں علم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں اور سلسلہ کی دوسری کتابیں پڑھ لے اس کے مقابلہ میں دنیا میں کوئی آدمی نہیں ٹھہر سکتا۔آجکل بہائی لوگ بڑا جھوٹ بولتے ہیں۔وہ جہاں دیکھتے ہیں کہ کسی کو کوئی چیز پسند ہے وہیں کہہ دیتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے۔آجکل انڈونیشیا پر انہوں نے زور دیا ہوا ہے۔وہاں ان کے کچھ پروفیسر چلے گئے ہیں۔میر الٹر کار فیع احمد بھی وہاں تبلیغ کے لئے گیا ہوا ہے۔اس نے مجھے لکھا کہ میں نے ان کو یوں جواب دیا تو انہوں نے کہا یہ جھوٹ ہے ہماری کتاب میں یہ نہیں ہے۔میں نے لکھا یہ جھوٹ بات ہے ان کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے۔پھر میں نے مولوی ابو العطاء صاحب کو وہ خط بھیج دیا کہ آپ حوالے نکال دیں۔میں نے تو لکھ دیا ہے کہ جھوٹ ہے لیکن آپ حوالے نکال کر بھجوا دیں۔