انوارالعلوم (جلد 25) — Page 38
انوار العلوم جلد 25 38 سیر روحانی (8)۔جھوٹے اور سچے ہوتے ہیں تو بعض بیچارے بڑی دیانت داری سے ڈائری لکھتے تھے لیکن ان کی تصدیق مشکل ہو جاتی تھی۔مثلاً وہ کہتا تھا کہ میں نے فلاں جگہ پر کان رکھ کے سنا تو اندر فلاں فلاں آدمی یہ باتیں کر رہے تھے۔یا میں ریل کے ڈبہ میں بیٹھا تھا تو فلاں فلاں یہ باتیں کر رہے تھے۔اب ہم کس طرح یقین لائیں کہ اُس نے سچ لکھا ہے۔چاہے ایک ایک لفظ اُس نے سچ لکھا ہو۔عام طور پر ڈائری نولیس کو یہ رعایت ہوتی ہے کہ کہتے ہیں یہ آفیشل ورشن ہے۔آفیشل ورشن غلط نہیں ہو سکتا۔مگر یہ دھینگا مشتی ہے پبلک ہر آفیشل ورشن کو غلط کہتی ہے۔جب تنقید بڑھ جاتی ہے اور حکومت کے خلاف اعتراضات ملک میں زیادہ ہو جاتے ہیں تو پھر حکومت قرآن ہاتھ میں لے کر بھی کوئی بات کرے تو ملک والے کہتے ہیں ہم نہیں مانیں گے یہ غلط اور جھوٹ ہے۔بیچارہ پولیس والا وضو کر کے اور نماز پڑھ کے ڈائری لکھے اور خدا کی قسم کھائے کہ ایک لفظ بھی میں جھوٹ نہیں بولوں گا تو پھر بھی جب لوگ اس ڈائری کو پڑھیں گے تو کہیں گے جھوٹ ہے اور ملک میں اس کے خلاف زبر دست پروپیگنڈا شروع ہو جاتا ہے اور پھر جمہوری حکومتوں میں چونکہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں پولیس بیچاری یہ بھی ڈرتی ہے کہ کل کو یہی آگے آگئے تو ہمارے لئے مصیبت ہو جائے گی۔مگر فرماتا ہے کہ یہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈائری نویس مقرر ہوتے ہیں ان کے لئے یہ خطرہ نہیں ہو تا۔مجرموں کے انکار پر پولیس کا جھوٹے گواہ تیار کرنا سیدھی بات ہے کہ ، ڈائری عام طور پر مُجرموں کی لکھی جاتی ہے اور مجرم جو مجرم کرتا ہے وہ لوگوں کو دکھا کر تو کرتا نہیں، چوری چھپے کرتا ہے اور چوری میں اتفاقا ہی کوئی شخص دیکھ سکتا ہے، یہ تو نہیں کہ سارا ملک دیکھے گا یا سارا گاؤں دیکھے گا۔اب فرض کر و اتفاقا کوئی پولیس مین وہاں آگیا اور اُس نے وہ بات دیکھ لی اور اُس نے رپورٹ کی کہ ایسا واقعہ ہوا ہے تو اب لا ز یا جب وہ شخص پکڑا جائے گا تو کہے گا بالکل جھوٹ ہے اس کو تو میرے ساتھ فلاں دشمنی تھی اس لئے میرے