انوارالعلوم (جلد 25) — Page 39
انوار العلوم جلد 25 39 سیر روحانی (8) ساتھ اس نے یہ سلوک کیا ہے میں نے تو یہ کام کیا ہی نہیں۔اب اس کے لئے سوائے اِس کے کہ کوئی اور ایسے گواہ پیش کر دیئے جائیں یا بنالئے جائیں جن سے یہ واقعہ ثابت ہو اور کوئی صورت ہی نہیں۔چنانچہ دنیا میں یہی ہوتا ہے واقعہ سچا ہوتا ہے اور اس کے لئے گواہ جھوٹے بنائے جاتے ہیں تا کہ اُس واقعہ کو ثابت کیا جائے۔اتفاقاً ایسے بھی واقعات ہوتے ہیں جن میں گواہ بھی سچے مل جاتے ہیں اور واقعات بھی سچے مل جاتے ہیں اور ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں کہ واقعہ بھی جھوٹا ہوتا ہے اور گواہ بھی جھوٹے ہوتے ہیں بہر حال دونوں قسم کے کیس ہوتے رہتے ہیں۔کبھی گواہ بھی جھوٹے اور واقعہ بھی جھوٹا، کبھی واقعہ سچا اور گواہ جھوٹے، کبھی واقعہ بھی سچا اور گواہ بھی سچے۔مگر الہی سلسلہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ہمارے جو ڈائری نویں ہیں ان میں یہ بات بالکل نہیں پائی جاتی۔عالم روحانی میں مجرم کے لئے تا ہم نے گواہ پیش کئے جائیں گے اور کہا سامنے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی جائے گا کہ انہوں نے تمہارا واقعہ لکھا یہ درست ہے کہ جس وقت اس کے ہے تو مُجرم لازما یہ کہے گا کہ صاحب! یہ غلط ہے۔جیسے اس دنیا میں مجسٹریٹ کے سامنے جب پولیس ایک کیس پیش کرتی ہے تو مجرم کہتا ہے حضور ! یہ بالکل غلط ہے ، پولیس والے میرے دشمن ہیں اور انہوں نے خواہ مخواہ مجھ پر کیس چلا دیا ہے میں نے تو کوئی فعل کیا ہی نہیں۔اس کے نتیجہ میں حج بھی شبہ میں پڑ جاتا ہے اور وہ بھی یہ دیکھتا ہے کہ آیا پولیس سچی ہے یا یہ سچا ہے۔اور ادھر پبلک بھی شبہ میں پڑ جاتی ہے بلکہ پبلک کو عام ہمدردی لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے، پولیس کے ساتھ نہیں ہوتی۔چنانچہ پبلک بھی اور اخبار والے بھی طنز شروع کر دیتے ہیں کہ یو نہی آدمی کو دھر گھسیٹا ہے ، نہ اس نے مجرم کیا نہ کچھ کیا یو نہی اس کو دھر لیا گیا ہے۔فرماتا ہے یہ امکان ہمارے ڈائری نویسوں کے خلاف بھی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے يَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوا أَيْنَ شُرَكَا وَكُمُ الَّذِينَ كُنْتُهُ تَزْعُمُونَ - ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَنْ قَالُوا وَاللهِ رَبَّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ۔جب قیامت کے دن ہمارے سامنے وہ لوگ پیش ہونگے تو ہم مشرکوں سے کہیں گے کہ وہ کہاں ہیں :