انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 37

انوار العلوم جلد 25 37 سیر روحانی (8) ان میں سے ایک ہندو تھا جو اب ہندوستان چلا گیا ہے دو مسلمان تھے جن میں سے ایک فوت ہو چکا ہے اور ایک ملتان میں بیرسٹری کر رہا ہے۔یہ تینوں روزانہ میرے ساتھ مذہبی اور سیاسی گفتگو کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کانگرس کے ساتھ ملنا چاہئے مسلمانوں کی بہتری اور بھلائی اسی میں ہے۔غرض خوب بخشیں ہوتی رہتی تھیں۔جب ہمارا جہاز عدن پہنچا تو ہم اُتر کے عدن کی سیر کے لئے چلے گئے۔میں بھی تھا اور وہ تینوں بیرسٹر بھی تھے اور وہ دو لڑکے بھی تھے جن میں سے ایک اس وقت ایجو کیشن کا ڈائر یکٹر ہے اُس وقت وہ بچہ تھا۔بہر حال ہم سارے وہاں گئے۔جس وقت ہم شہر میں داخل ہونے لگے تو ایک آدمی بالکل سادہ لباس میں ہمارے پاس آیا۔اُس وقت ہم پنجابی میں باتیں کر رہے تھے اُس نے دیکھ لیا کہ پنجابی ہیں۔چنانچہ آتے ہی کہنے لگا " آگئے ساڈے لالہ لاجپت رائے جی دے وطن دے خوش قسمت لوگ آگئے " اُس نے اتنا فقرہ ہی کہا تھا کہ انہوں نے اُس کو نہایت غلیظ گالیاں دینی شروع کر دیں۔مجھے بڑی بد تہذ یہی معلوم ہوئی کہ اس بیچارے نے کہا ہے کہ تم وہاں سے آئے ہو اور انہوں نے گالیاں دینی شروع کر دی ہیں۔خیر اس وقت تو میں چپ رہا جب ہم واپس آئے تو میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے کوئی اچھے اخلاق نہیں دکھائے۔کوئی مسافر آدمی تھا، پنجابی دیکھ کر اُسے شوق آیا کہ وہ بھی پنجابی میں باتیں کرے اور اُس نے آپ کو کہہ دیا کہ لالہ لاجپت رائے کے وطن کے لوگ آئے ہیں تو اس میں حرج کیا ہوا؟ وہ کہنے لگے آپ نہیں جانتے یہ پولیس مین تھا اور اُس کی غرض یہ تھی کہ ہم لالہ لاجپت رائے کی کچھ تعریف کریں اور یہ ہمارے خلاف ڈائری دے۔اب پتہ نہیں یہ سچ تھا یا جھوٹ یا ان کے دل پر ایک وہم سوار تھا اور اس کی وجہ سے انہوں نے یہ کہا۔بہر حال دنیا میں یہ کارروائیاں ہوتی ہیں۔دیانتدار ڈائری نویسوں کو اپنی پھر میں نے یہ بھی سوچا کہ ان بادشاہوں کے دربار میں سچی ڈائریاں بھی جاتی تھیں۔ڈائری کی تصدیق میں مشکلات آخر سارے پولیس مین تو جھوٹے نہیں ہوتے۔بیچ میں جھوٹے بھی ہوتے ہیں اور سچے بھی ہوتے ہیں۔بلکہ دنیا کی ہر قوم میں