انوارالعلوم (جلد 25) — Page 215
215 انوار العلوم جلد 25 گیا ہوں۔وہ کتابیں کوئی نہیں خرید تا۔اوّل تو میں سمجھتا ہوں ان کی غلطی ہے۔اگر وہ لکھ کے انجمن کو دے دیتے یہ لالچ نہ کرتے کہ شاید پانچ سو خرچ کیا تو آٹھ سو آ جائے گا تو قرض نہ ہو تا مگر اب پانچ سو بھی نہ آیا اور وہ بھی ضائع چلا گیا۔لیکن کم سے کم احمدیوں کو چاہئے تھا کہ اپنے آباء کے نام یاد رکھتے۔آپ لوگ تو قدر نہیں کرتے۔جس وقت یورپ اور امریکہ احمدی ہو تو انہوں نے آپ کو بُرا بھلا کہنا ہے کہ حضرت صاحب کے صحابہ اور ان کے ساتھ رہنے والوں کے حالات بھی ہمیں معلوم نہیں۔وہ بڑی بڑی کتابیں لکھیں گے جیسے یورپ میں بعض کتابوں کی ہیں ہیں چالیس چالیس پاؤنڈ قیمت ہوتی ہے اور بڑی بڑی قیمتوں پر لوگ ان کو خریدیں گے۔مگر ان کا مصالحہ ان کو نہیں ملے گا اور وہ غصہ میں آکے تم کو بددعائیں دیں گے کہ ایسے قریبی لوگوں نے کتنی قیمتی چیز ضائع کر دی۔ہم نے تو اب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت بھی مکمل نہیں کی۔بہر حال صحابہ کے سوانح محفوظ رکھنے ضروری ہیں۔جس جس کو کوئی روایت پتہ لگے اُس کو چاہئے کہ لکھ کر اخباروں میں چھپوائے، کتابوں میں چھپوائے اور جن کو شوق ہے اُن کو دے تا کہ وہ جمع کریں اور پھر وہ جو کتابیں چھاپیں۔ان کو ضرور خریدیں اور اپنے بچوں کو پڑھائیں۔صحابہ میں جو رنگ تھا اور اُن لوگوں میں جو قربانی تھی وہ ہمارے اندر نہیں ہے۔مگر ہمارے اندر بھی وہ طبقہ جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت پائی تھی بڑا مخلص تھا اور ان میں بڑی قربانی تھی۔اگر وہی اخلاص آجکل نوجوانوں میں پیدا ہو جائے تو جماعت ایک سال میں کہیں سے کہیں نکل جائے۔ایک درجن کے قریب تو وہ آدمی تھے جو قادیان سے کوئی سو میل پر رہتے تھے ، سڑک کوئی نہیں تھی، ریل کوئی نہیں تھی مگر وہ ہر اتوار کو چھٹی پر قادیان آپہنچتے تھے۔اب یہاں پاس گوجرانوالہ ہے، شیخو پورہ ہے اور ربوہ مین سڑک پر ہے ڈیڑھ دو گھنٹے میں لوگ پہنچ سکتے ہیں لیکن نوجوانوں کو چھٹی ملتی ہے تو جھٹ اپنے گھر گھس جاتے ہیں یہاں کوئی نہیں آتا، ہم سے آکر کوئی نہیں ملتا۔میں بیماری کی وجہ سے درس تو نہیں دے سکتا لیکن دین کی کوئی بات اگر مجھ سے پوچھنا چاہیں تو پوچھ سکتے ہیں۔مثلاً چودھری ظفر اللہ خان صاحب ہیں ان کو دین کی خدمت کا ایک