انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 214

انوار العلوم جلد 25 214 متفرق امور میں جب سندھ جاتا ہوں تو چونکہ مجھے گاؤٹ 2 (GOUT) کا دورہ ہوتا رہتا ہے۔مجھے زمینوں میں پھرنے کے لئے موٹر میں جانا پڑتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ چلتے چلتے موٹر کھڑا ہو جاتا ہے۔پوچھتا ہوں کیوں کھڑے ہو گئے ؟ کہتے ہیں آگے سڑک ٹوٹی ہوئی ہے۔میں پھر پوچھتا ہوں سڑک کیوں ٹوٹی ہوئی ہے ؟ وہ کہتے ہیں پانی ٹوٹ گیا ہے۔میں کہتا ہوں پانی کیوں ٹوٹ گیا؟ وہ کہتے ہیں فلاں زمیندار کی رات کو باری تھی مگر وہ گھر سے نہیں نکلا کہ ہن رات نوں کون ھیچل کرے"۔کون دیکھ بھال کرے۔نتیجہ یہ ہوا کہ پانی ٹوٹ گیا اور ساری سڑکیں خراب ہو گئیں۔غرض ہمارا از میندار نہ رات کو پانی دینے کے لئے نکلتا ہے نہ وقت پر ہل چلانے کے لئے نکلتا ہے نہ اچھے بیج کی تلاش کرتا ہے۔اگر گرین مینورینگ GREEN) (MANURING کرتا ہے تو غلط طریق پر۔اوّل تو جانور کی مینو رینگ بڑی قیمتی چیز ہوتی ہے مگر جانور کا جتنا گو بر نکلتا ہے یہ اُس کو پاتھ کر اُس کی آگ جلاتا ہے اور بڑا خوش ہوتا ہے کہ بالن مل گیا۔حالانکہ یہ نہیں سمجھتا کہ "بالن تے مل گیا پر سٹھ من غلہ برباد ہو گیا۔غرض سب کام اندھا دھند کرتا ہے۔تم کو خدا نے احمدی بنایا ہے ، دین کا وارث بنایا ہے تم عقل کرو۔خدا کے لئے کمائی کرو اور دین میں دو۔اگر پچیس لاکھ تمہاری صدر انجمن احمدیہ کا چندہ ہو تو ابھی دو تین کالج اور بن جائیں۔پچیس لاکھ تحریک جدید کی آمد ہو جائے تو ہم خدا کے فضل سے پچاس مشن اور کھول دیں گے اور اسلام جلدی جلدی ترقی کرنے لگ جائے گا۔پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے درد صاحب بیچارے فوت ہو گئے ، ملک صاحب بیمار ہیں، صوفی مطیع الرحمن صاحب فوت ہو گئے ، صحابہ فوت ہو رہے ہیں۔پچھلے لوگوں کو دیکھو باوجود یہ کہ اُن لوگوں میں اتنا علم نہیں تھا اُنہوں نے اس چیز کی بڑی قدر کی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے حالات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں دس دس جلدوں میں لکھیں۔ہمارے ہاں بھی صحابہ کے حالات محفوظ ہونے چاہئیں۔ملک صلاح الدین صاحب لکھ رہے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں سینکڑوں روپے کا مقروض ہو