انوارالعلوم (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 572

انوارالعلوم (جلد 25) — Page 203

انوار العلوم جلد 25 203 متفرق امور معلوم ہوتا ہے کہ اِس حالت میں بھی یہ بڑا اچھا کام کر رہا ہے۔مثلاً انڈونیشیا کے ایک مبلغ نے لکھا ہے کہ وہ وہاں کی مذہبی اور پولیٹیکل پارٹیوں کے ایک بہت بڑے لیڈر سے ملنے کے لئے گیا ( میں اُس کا نام نہیں لیتا کہ اِس طرح شور پڑ جائے گا اور شاید بعض غیر احمدی اس کو تاریں دینے لگ جائیں کہ تم یہ کیا غضب کرتے ہو کہ ریویو پڑھتے ہو) تو اس کے سیکرٹری نے بتایا کہ وہ باقاعدہ ریویو کی جلدیں بند ھوا کے اپنی لائبریری میں رکھتا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ جولائی سے اس کو پرچہ نہیں ملا اس کا اس کو بڑا افسوس ہے۔وہ تو میں نے ہدایت دے دی ہے کہ پرچے با قاعدہ جایا کریں لیکن تم اتنا تو کرو کہ ایک ہزار پرچہ انجمن اور تحریک چھپواتی ہے اور ایک ہزار پر دس ہزار روپیہ خرچ آتا ہے تم دو ہزار سے ہی ابتدا کر دو اور پھر اگلے سال اس کو چار پانچ ہزار بنانے کی کوشش کرو۔اس طرح سارا سال لگے رہو تو انشاء اللہ آہستہ آہستہ دس ہزار تک پہنچ جائے گا۔اسی طرح ایک اور پاکستانی علاقہ سے اطلاع آئی ہے کہ یہاں کے جو بڑے بڑے علماء اور امراء ہیں ان کی لائبریریوں میں ہم گئے تو انہوں نے ریویو ر کھے ہوئے تھے اور انہوں نے کہا کہ ہم اسے با قاعدہ پڑھتے ہیں۔لیکن افسوس کہ انہوں نے بھی یہ شکایت کی ہمیں کچھ مہینے سے یہ رسالہ نہیں مل رہا۔اب میں نے پھر تاکید کر دی ہے کہ کسی معقول طریق پر کام کرو۔یہ نہیں کہ ایک غیر احمدی کو رسالہ بھیجتے رہے اور ایک دن آکر اس کو کہہ دیا کہ قیمت بھیج ، نہ بھیجے تو بند کر دیا۔بلکہ اپنے دوستوں میں اس کی خریداری بڑھانے کی کوشش کرو۔کوئی نہ کوئی خدا کا بندہ ایسا نکل آئے گا جو قیمت دے دے گا۔یورپ میں بھی کئی لوگوں نے مجھے بتایا کہ ہم با قاعدہ ریویو کو پڑھنے والے ہیں۔ایک اور بات کی طرف بھی میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں۔اور وہ یہ ہے کہ قرآن شریف کے انگریزی ترجمہ اور تفسیر کی بڑی جلد ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے۔انگریزی کی مثل ہے کہ مصیبت اکیلی نہیں آتی۔گو ہمارے ہاں بڑی اچھی مثل بھی ہے۔ہمارے ہاں یہ مثل ہے کہ "جب خدا دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے" خدا کرے ہماری مثل ہی ہم پر صادق آئے۔وہ انگریزی مثل ہم پر صادق نہ آئے۔اُدھر