انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 515

انوار العلوم جلد 24 515 سال 1954ء کے اہم واقعات کہ جس چیز پر متواتر انسانی ذہن لگ جائے وہ دل میں شیخ کی طرح گڑ جاتی ہے۔تو دوسری خوش قسمتی ان کو یہ نصیب ہوئی (اصل میں تو بد قسمتی تھی مگر خوش قسمتی یہ نصیب ہوئی) کسی نہ کسی وجہ سے مسیحی قوم میں اخلاق اور رحم اور عفو پر خاص زور دیا گیا۔جب وہ شرابیں پی کے اور سج سجا کے اتوار کی چھٹی میں گرجے میں جاتے ہیں ( کام ان کو بڑا کرنا پڑتا ہے) تو وہاں جاتے ہی پادری ان کو کہتا ہے کہ تم میں رحم ہونا چاہئے ، تم میں شفقت ہونی چاہئے ، تم میں صفائی ہونی چاہئے ، تم میں نظم ہونا چاہئے ، تم میں غریبوں کی ہمدردی ہونی چاہئے۔یہ وہ سنتے ہیں اور پھر یہی خیال ان کے دماغ میں گھومتے چلے جاتے ہیں۔لیکن ہمارے ملک میں یہ کیفیت ہے کہ ہم ہر چیز کے متعلق اس طرح کودتے ہیں جس طرح بندر درخت پر کودتا ہے۔ابھی ایک خیال ہوتا ہے پھر دوسرا خیال ہوتا ہے پھر تیسر اخیال ہوتا ہے پھر چوتھا خیال ہوتا ہے ایک جگہ پر ہم نکتے ہی نہیں جس کی وجہ سے اعلیٰ سے اعلیٰ قرآنی تعلیم اور حدیثی تعلیم ہمارے اندر جذب نہیں ہوتی کیونکہ ہم جھٹ اس سے کود کر آگے چلے جاتے ہیں۔(رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کا علاج مراقبہ بتایا ہے اور مختلف شکلوں میں صوفیائے کرام نے اس پر عمل کی تدابیر نکالی ہیں مگر اس مادی دور میں اس کو پوچھتا کون ہے ) تو میں نے کہا ایسا شراب کی وجہ سے ہے۔اور میں نے اُن کو بتایا کہ ہمارے ہاں بھی خدا تعالیٰ نے اس کا علاج رکھا ہے مگر ہمارے علماء نے وہ علاج اختیار نہیں کیا۔اور وہ یہ تھا کہ قرآن کی تعلیم اور حدیث کی تعلیم جوان امور کے متعلق ہے اُس کو بار بار ذہن میں لایا جائے جسے مراقبہ کہتے ہیں۔اور پھر بار بار لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔مگر ہمارے ہاں تو بجائے یہ کہنے کے کہ اخلاق کی درستی ہونی چاہئے بس یہی ہوتا ہے کہ نماز پڑھو، روزہ رکھو، یوں سجدہ کرو، یوں ڈھیلا استعمال کرو۔کم سے کم سات دفعہ جب تک پتھر سے خاص خاص حرکات نہ کرو تمہارا ڈھیلے کا فعل رست ہی نہیں ہو سکتا۔غرض یا قشر پر زور دیا جاتا ہے یا رسم پر زور دیا جاتا ہے اور جو اصل سبق ان احکام کے پیچھے ہے اسے بالکل نظر انداز کیا جاتا ہے۔غرض اُدھر دماغوں کو اپنی طرف متوجہ رکھنے والا جو ایک جسمانی سامان اُن کو میسر ہے وہ ہمیں نہیں۔ہمارے پاس