انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 514

انوار العلوم جلد 24 514 سال 1954ء کے اہم واقعات اخلاق اچھے ہیں ؟ میں نے کہا ہاں۔اب میں نے سمجھا کہ اب یہ دوسرا وسوسہ اس کے دل میں پیدا ہو گا کہ پھر شراب شروع کرنی چاہئے تاکہ ہمارے اخلاق بھی اچھے ہو جائیں۔تو میں نے اُس کو بتایا کہ اصل بات یہ ہے کہ شراب میں ہزاروں خرابیاں بھی ہیں لیکن شراب میں ایک خوبی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ اجتماع فکر کر دیتی ہے۔جس چیز کو سنیں یا کہیں اُسی کو دہراتے چلے جائیں گے اور کسی دوسری چیز کا ان میں احساس ہی نہیں ہو گا۔میں نے کئی دفعہ سنایا ہے ایک دفعہ میں گھر میں ٹہل رہا تھا اور ٹہلتے ٹہلتے کوئی کتاب یا کوئی مضمون لکھ رہا تھا۔نیچے سے مجھے کسی شخص کی آواز آئی جو دوسرے کو پنجابی میں کہہ رہا تھا کہ "بھائی سورن سنگھ ! کیا پکوڑے کھانے ہیں ؟" مجھے یہ فقرہ کچھ عجیب سا معلوم ہوا۔چھوٹی سی دیوار تھی پاس ایک سٹول پڑا ہوا تھا میں نے سٹول پر کھڑے ہو کر نیچے جھانکا کہ کیا بات ہے تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار جارہا تھا اور دوسرا آدمی جو پیدل تھا وہ اس جگہ موڑ پر جہاں صدر انجمن احمدیہ کا دفتر ہوا کرتا تھا اور اس کے او پر مکان کے دوسری طرف میر ا دفتر تھا گلی کے نیچے نکڑ میں بیٹھا ہوا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اکٹھے آئے ہیں مگر وہاں آکے وہ تھک کے بیٹھ گیا ہے اور گھوڑے والا جا رہا ہے اور وہ عجیب لچکدار طرز پر جیسے کوئی ناز کرتا ہے کہہ رہا تھا" سورن سنگھ ! پکوڑے کھانے ہیں ؟۔اس آواز کو سنکر مجھے تعجب ہوا مگر پھر میرا تعجب اور بڑھا کہ سورن سنگھ صاحب گھوڑے پر چڑھے ہوئے کوئی پندرہ گز چلے گئے اور وہ وہیں بیٹھے ہوئے کہتا جاتا ہے۔"سورن سنگھا ! پکوڑے کھانے ہیں" پھر میں نے دیکھا کہ سورن سنگھ صاحب تو گلی کی دوسری نکڑ پر پہنچے ہوئے ہیں اور یہ ابھی پکوڑوں کی دعوت دے رہا ہے۔اس کے بعد وہ اور آگے نکل گیا اور غالباً پھر وہ بہشتی مقبرہ تک بھی جا پہنچا اور وہ شخص بیٹھے ہوئے یہی کہہ رہا تھا۔"بھائی سورن سنگھ ! کیا پکوڑے کھانے ہیں ؟'' اب سورن سنگھ صاحب شاید گھر بھی جا پہنچے تھے اور یہ بیٹھا میرے گھر کے نیچے " پکوڑے کھانے ہیں" کا راگ الاپ رہا تھا۔یہ چیز صرف شراب کی وجہ سے تھی۔میں سمجھ گیا کہ اس نے شراب پی ہوئی ہے۔تو شراب اجتماع فکر کرتی ہے اور اس کا لازمی نتیجہ علم النفس کے ذریعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے ا