انوارالعلوم (جلد 24) — Page 516
انوار العلوم جلد 24 516 سال 1954ء کے اہم واقعات روحانی سامان تھے ، اخلاقی سامان تھے لیکن ان کو ہم استعمال نہیں کرتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کے ہاں یہ اخلاق پیدا ہو جاتے ہیں اور ہمارے ہاں نہیں ہوتے۔تو بہر حال تربیت کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کرتی اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم تربیت کریں لیکن بار بار جلسہ پر بھی میں نے کہا ہے، خطبے بھی کہے ہیں، زبانی بھی ہدایتیں دی ہیں لیکن " وہی ڈھاک کے تین پات" وہ بات اپنی جگہ سے ملتی نہیں۔مثلاً ملاقات ہوتی ہے اس ملاقات کے لئے میں نے متواتر عیدوں پر ہدایتیں دی ہیں، جلسے پر ہدایتیں دی ہیں کہ جو لوگ آتے ہیں وہ اپنی محبت کے جذبہ میں آتے ہیں تمہاری طرح ڈیوٹی پر نہیں کھڑے ہوئے۔اُن کا دل یہ چاہتا ہے کہ جہاں سے ہم داخل ہوں خلیفہ کے منہ پر ہماری نظر پڑنی شروع ہو جائے مگر بار بار سمجھانے کے باوجود پہریدار ہمیشہ میرے مُنہ کے آگے کھڑا ہوتا ہے اور ملاقاتی کو لا کر اور پھر اپنی پیٹھ کے پیچھے سے گزار کر سامنے کرتے ہیں تاکہ اُسے کچھ نظر نہ آئے۔اور جس وقت وہ میرے پاس آتا ہے اُس وقت ایک دوسرے ملاقات کروانے والے صاحب اُس کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیتے ہیں اور اسے کہتے ہیں "چلو پیچھے کو " وہ نظارہ بالکل ایسا ہوتا ہے جیسے تین آنہ والی یا چھ آنہ والی مشین ہوتی ہے جس کے اندر کوئی تین آنے یا چھ آنے ڈالے تو اندر سے ایک پیکٹ نکل آتا ہے۔اس غریب ملاقاتی کی ملاقات بھی اسی پیکٹ کے نکلنے کی طرح ہوتی ہے اور کچھ نتیجہ نہیں نکلتا۔بار بار میں نے سمجھایا ہے کہ ایسا نہ کیا کرو۔بعض کار کن ایسے ہیں کہ ان کے متعلق میں نے یہاں تک ہدایت دی کہ آئندہ ان کو کام پر نہ مقرر کیا کرو کیونکہ یہ ہمیشہ دخل دیتے ہیں لیکن باوجود اس کے وہی مقرر ہوتے ہیں اور اُن کا کام یہ ہو تا ہے کہ ہاتھ پکڑا اور نکالا۔ہاتھ پکڑا اور نکالا۔حالانکہ میں نے منع کیا ہوا ہے کہ اگر میں سمجھوں گا کہ اب روکنے کا وقت آیا ہے تو میں آپ کہہ دوں گا کہ ان کو رخصت کر دو۔جب تک میں نہیں کہتا تمہارا کام نہیں کہ ان کو گھسیٹو۔یا اگر خطرے والی بات ہو تو بے شک اُس وقت ہر انسان اپنی عقل کو استعمال کرتا ہے۔اگر تم سمجھتے ہو کہ کوئی دشمن آ گیا ہے اور وہ کوئی حملہ کرنا چاہتا ہے تو پھر تمہیں میرا حکم لینے کی ضرورت نہیں۔آپ ہی اپنی طرف سے انتظام