انوارالعلوم (جلد 24) — Page 159
انوار العلوم جلد 24 159 اُن سے بدظن کیا جاتا ہے اور جو ابھی اس بے ایمانی کے مقام پر نہیں پہنچے اُن کو اسی وقت سے سکھایا جاتا ہے کہ بے ایمانی اتنی عام ہے کہ اس میں تم بھی ہاتھ دھوؤ تو کوئی بڑی بات نہیں۔مجھے یاد ہے میں جوان تھا جب میں ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں لاہور سے قادیان ریل میں جارہا تھا۔بٹالہ تک ریل تھی۔اُس وقت اتفاق کی بات ہے اُس کمرہ میں تین چار ریلوے کے افسر بیٹھے ہوئے تھے اور ایک میں تھا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ایک اُن میں سے رٹیائرڈ افسر تھا جس کو وہ سارے جانتے تھے باقی سارے سروس میں تھے وہ اس کو جانتے تھے تو کہنے لگے آپ کو بڑا موقع خدا نے دیا ہے۔(ہندو تھے وہ)۔خدا نے بڑا اچھا موقع دیا ہے آپ سے ملاقات کا، آپ کے تجربہ سے ہم کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔آپ ہمیں کوئی مشورہ دیجئے کہ کس طرح ہمارے پیشہ میں اور ہمارے اِس کام میں ترقی ہو سکتی ہے؟ کہنے لگے جی بات تو اصل میں یہ ہے کہ زمانے زمانے کی بات ہوتی ہے ہمارے زمانہ کا افسر ہو تا تھا بڑا شریف۔اب تو بڑے گندے لوگ ہو گئے ہیں اب تو وہ بات ہی نہیں رہی جو اُس وقت ترقی کے مواقع تھے وہ اب نہیں ملتے۔کہنے لگے اچھا جی کیا فرق تھا؟ کہنے لگے دیکھو میں تمہیں بتاؤں فرق۔تمہاری تنخواہیں شروع ہوتی ہیں اب پچاس ساٹھ سے۔ہماری تنخواہیں شروع ہوتی تھیں پندرہ روپیہ سے۔تو جب میں نو کر ہوا ہوں پندرہ روپے مجھے ملتے تھے۔میری ماں بڑھیا تھی باپ میرا ہے نہیں تھا تو میں دس روپے ماں کو بھیج دیتا تھا اور پانچ روپے میں آپ گزارہ کر تا تھا تو تم سمجھ سکتے ہوستا تو سماں تھا پر پانچ روپے میں آخر کیا گزارہ ہوتا ہے۔جو میں نے کوٹ پہنا ہوا تھا وہ پیچھے سے پھٹ گیا اور اُس میں سوراخ ہو گئے۔تو سٹیشن ماسٹر انگریز ہو تا تھا امر تسر کا۔(امر تسر میں میں تھا) وہ آیا اور مجھے دیکھ کے کہنے لگا ادھر آؤ لڑ کے تم نے یہ کوٹ پھٹا ہوا کیوں پہنا ہے ؟ میں نے کہا صاحب میرے پاس توفیق نہیں نئے کوٹ کی۔پندرہ روپے تو مجھے تنخواہ ملتی ہے۔میری ماں بیوہ ہے دس روپے میں اُس کو بھیجتا ہوں پانچ روپے میں گزارہ کرتا ہوں۔روٹی بھی اس میں کھانی، کپڑے بھی۔کوٹ کہاں سے بنواؤں؟ کہنے لگا وہ بڑی