انوارالعلوم (جلد 24) — Page 158
انوار العلوم جلد 24 158 کہ تم کو کہنے کا فلاں فلاں صورتوں میں حق ہے ورنہ اس کا بھی حق نہیں تم چوری کرتے ہوئے دیکھو پھر بھی نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارے ملک میں یہ دستور ہے کہ اگر کسی شخص سے دو افسروں نے رشوت لے لی تو اب وہ جہاں بیٹھے گا کہے گا۔پاکستان کا افسر کیا ہر آدمی رشوت لیتا ہے جی۔وزیر اعظم چھوڑ، گورنر جنرل چھوڑ، دوسرے وزیر چھوڑ، ڈپٹی کمشنر ، کمشنر یہ سارے کے سارے ہی رشوت لیتے ہیں۔اب اس سے پوچھو کہ کتنی دفعہ تیرا معاملہ گورنر جنرل سے پڑا تھا؟ کتنی دفعہ تیرا معاملہ وزیروں سے پڑا تھا؟ کتنی دفعہ گورنر کی صحبت میں تو گیا تھا؟ کتنی دفعہ فنانشل کمشنر کے ساتھ تیر اواسطہ پڑا تھا؟ کتنی دفعہ کمشنروں کے ساتھ تیر اواسطہ پڑا تھا؟ کتنی دفعہ انسپکٹر جنرل کے ساتھ پڑا تھا؟ تُو نے تو شکل بھی نہیں دیکھی اُن کی نہ اُن سے ملنے والوں کا تو واقف ہے تجھے کس طرح پتہ ہے کہ سارے رشوت لیتے ہیں۔بس ہر مجلس میں بیٹھے ہوئے یہ کہا اور باقی ساری کی ساری مجلس کہے گی بس ٹھیک ٹھیک۔تم نے ٹھیک کہا ہے۔ٹھیک ہے ، یہی بات ہے۔اب سارے کے سارے گالیاں دے رہے ہیں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَ أَهْلَكَهُمْ 2 جو شخص یہ کہے کہ اس قوم میں یہ خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں تو قوم تو نہیں تباہ ہوئی اس نے اُن کو تباہ کیا ہے یعنی اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ تباہ ہو جائیں گی۔تو باوجود اس علم کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم فرمایا ہے پھر اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ہر مجلس میں بیٹھے ہوئے ساروں کے ساروں کو بدنام کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ سب ایسا ہی کرتے ہیں۔حالانکہ شریعت تو یہ بھی جائز نہیں قرار دیتی کہ جس سے تمہیں نقصان پہنچا ہے اُس کے متعلق بھی تم آزادانہ اور اونچی آواز سے بولو سوائے خاص حالات کے۔اور نتیجہ اس کا یہ ہوتا ہے کہ خرابیاں پید اہوتی ہیں ایک تو یہ کہ سب حکومت سے بدظن ہو جاتے ہیں۔دوسری خرابی یہ پیدا ہوتی ہے کہ جو نوجوان یہ باتیں سنتے ہیں وہ کہتے ہیں جب ہمارے سارے ہی بزرگ بے ایمان ہیں تو ہم کیوں بے ایمان نہ رہیں ہم اُن سے بڑھ کر بے ایمان بنیں گے۔تو ساری قوم کا کیریکٹر تباہ ہو جاتا ہے۔جو بے ایمان نہیں اُن کے اوپر غلط الزام لگائے جاتے ہیں اور دوسروں کو