انوارالعلوم (جلد 24) — Page 160
انوار العلوم جلد 24 160 متفرق امور حقارت سے مجھے دیکھ کر کہنے لگا میرے تمہارے متعلق بڑے اچھے خیالات تھے اور میں سمجھتا تھا تمہاری رپورٹ کروں ترقی کی۔لیکن معلوم ہوا تم بڑے جاہل آدمی ہو، بڑے احمق ہو۔میں نے کہا کیوں صاحب! میرا اس میں کیا قصور ہے ؟ کہنے لگا بولو یہاں امر تسر سے کتنا مال روزانہ گزرتا ہے ؟ میں نے کہا جی پچاس ساٹھ لاکھ کا گزر جاتا ہو گا۔کہنے لگا نہیں اس سے بھی زیادہ گزرتا ہے۔کہنے لگا تم نے بھی دیکھا ہے دریاؤں پر تم ہند و جاتے ہو جمنا اور گنگا میں جاکے اشنان کرتے ہو کہ پاپ جھڑتے ہیں اور برکتیں ملتی ہیں تو جب تم اس میں ہاتھ دھوتے ہو یا نہاتے ہو گنگا کا پانی کم ہو جاتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں جی۔کہنے لگا اگر تمہارے نہانے سے گنگا کا پانی کم نہیں ہو تا تو یہ جو ایک کروڑ روپیہ کا روز مال گزرتا ہے اس میں سے اگر تم پچاس روپے نکال لو گے تو کوئی مال میں کمی آجائے گی۔تو میں تو سمجھتا تھا تم عظمند ہو۔معلوم ہوا تم بڑے جاہل آدمی ہو گنگا بہہ رہی ہے اور تم اپنا کوٹ پھٹا ہوا پہنے ہو۔کہنے لگا جی بس۔جب افسر نے یہ کہا تو پھر ہم نے ہاتھ رنگنے شروع کئے۔تو اُس وقت کا افسر اتنا شریف ہوتا تھا پر اب تو ذرا ذرا سی بات پر پکڑ لیتے ہیں۔یہی کچھ حالت آجکل کی بن گئی ہے یعنی شرافت جو ہے وہ نام ہو گیا ہے بے ایمانی کا۔بیوقوفی نام ہو گئی ہے شرافت کا اور ایمانداری کا۔تو اگر یہ طریقہ لوگ اختیار کریں کہ اپنے ملک کی مصنوعات لیں، اپنے حکام کے ساتھ تعاون کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ہماری جماعت میں تو خیر غریبوں کی جماعت زیادہ ہے مگر ٹیکس دینے والا کوئی بھی دیکھو۔احمدی بھی دیکھو دوسرا بھی دیکھو وہ یہی کوشش کرتا ہے کہ ٹیکس مجھ پر نہ لگے۔حالانکہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر ہم نے ٹیکس نہ دیا تو حکومت چلے گی کہاں سے۔بڑے بڑے آدمی ایسا کرتے ہیں۔مجھے ایک شخص کے متعلق جس کا احمدیت سے تو کچھ تعلق تھا لیکن ہمارے ساتھ نہیں تھا ایک شخص نے بتایا کہ اس کے اوپر ٹیکس کے لگنے کا سوال ہوا تو اس نے کہا میں نہیں کتابیں دکھاتا۔تو کہنے لگا افسر نے کہا مجھے پھر اختیار ہے کہ جو چاہوں ٹیکس لگالوں۔میں نے کہا تمہاری مرضی۔تو اُس نے اپنی طرف سے بڑا ٹیکس لگا دیا یعنی