انوارالعلوم (جلد 24) — Page 46
انوار العلوم جلد 24 46 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب اس کے لئے اخبار اہلحدیث کی ہی ایک گواہی پیش کی جاتی ہے۔یکم فروری 1918ء کے اخبار اہلحدیث میں کٹک میں قادیانیوں کی خاطر “ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا جس میں لکھا گیا کہ :- دو وہ جو کہاوت ہے کہ موئے پر سو ڈرے۔سو وہ بھی یہاں واجب التعمیل ہو رہی ہے۔مرزائیوں کی میت کا پوچھئے مت۔شہر میں اگر کسی میت کی خبر پہنچ جاتی ہے تو تمام قبرستانوں میں پہرہ بیٹھ جاتا ہے۔کسی کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے ، کسی کے ہاتھ میں چھڑی ہے۔میت کی مٹی پلید ہو رہی ہے کہ کھوجتے تابوت نہیں ملتی، بیلداروں کی طلب ہوتی ہے تو وہ ٹکا سا جواب دے دیتے ہیں، بانس اور لکڑی بالکل عنقائیت ہو جاتی ہے۔دفن کے واسطے جگہ تلاش کرتے کرتے پھول کا زمانہ بھی گزر جاتا ہے۔ہر صورت سے ناامید ہو کر جب یہ ٹھان بیٹھتے ہیں کہ چلو چپکے سے مکان کے اندر قبر کھود کر گاڑ دیں تو ہاتف غیبی افسران میونسپلٹی کو آگاہ کر دیتے ہیں اور وہ غڑپ سے آموجود ہو کر خر من امید پر کڑکتی بجلی گرا دیتے ہیں“۔105 مودودی صاحب الْحَمْدُ لله کہیں کہ اسلامی تعلیم کا کیسا شاندار نمونہ ان کے 106 ہمنوا دکھاتے رہے ہیں۔افسوس خود مودودی صاحب کو اس جہاد کی توفیق نہیں ملی۔(3) اپریل 1928ء میں کٹک میں ایک چھوٹے بچے کی لاش کو مخالفین نے اُس قبرستان میں بھی دفن ہونے سے روک دیا جو گورنمنٹ سے احمدیوں نے اپنے لئے حاصل کیا ہوا تھا اور مقامی حکام نے بھی اس میں احمدیوں کی کوئی مدد نہ کی۔16 (4) 16 مارچ 1928ء کو بھدرک (اڑیسہ) میں ایک احمدی شیخ شیر محمد صاحب کی لڑکی فوت ہو گئی۔غیر احمدیوں نے اس کی لاش قبرستان میں دفن نہ ہونے دی اور بڑے بھاری جتھہ سے مارنے پیٹنے پر آمادہ ہو گئے۔آخر انہوں نے میت کو صندوق میں بند کر کے اپنے گھر کے احاطہ کے اندر دفن کر دیا۔107