انوارالعلوم (جلد 24) — Page 47
انوار العلوم جلد 24 47 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب (5) 29 جنوری 1934ء کی شام کو کالی کٹ (مالا بار) میں ایک احمدی دوست فوت ہو گئے۔مخالفین نے سارے شہر میں پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دینا چاہئے۔چنانچہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ فوت شدہ احمدی کے مکان کے ارد گرد جمع ہو گئے اور وہاں اُنہوں نے گالیوں، دھمکیوں اور شور و شر سے ایسا طوفان برپا کیا کہ احمدیوں کے لئے مکان کے اندر باہر جانا مشکل ہو گیا۔رات کے آٹھ بجے کے قریب ایک شخص کو بڑی مشکل سے قبرستان میں بھیجا گیا مگر اس نے دیکھا کہ وہاں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ لاٹھیاں وغیرہ لے کر جمع ہیں اور اُنہوں نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ فوت شدہ احمدی کو کسی صورت میں بھی اس قبرستان میں دفن نہ ہونے دیں گے۔ذمہ دار حکام کو توجہ دلائی گئی مگر اُنہوں نے بھی اپنی بے بسی ظاہر کی۔آخر دوسرے دن رات کے ساڑھے دس بجے ایک ایسی جگہ جو شہر سے بہت دور تھی اور جو موسم برسات میں بالکل زیر آب رہتی تھی احمدیوں نے اپنی لاش دفن کی۔108 (6) 12 مارچ 1936ء کو بمبئی کے ایک احمدی دوست کا خورد سال بچہ فوت ہو گیا۔جب اسے دفن کرنے کے لئے قبرستان لے گئے تو مخالفین نے جھگڑا شروع کر دیا اور کہا کہ قبرستان سنی مسلمانوں کا ہے قادیانیوں کا نہیں ہے۔یہاں قادیانی دفن نہیں ہو سکتے“۔احمدیوں نے انہیں یقین دلایا کہ ہم بھی مسلمان ہیں اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں مگر اُنہوں نے پھر کہا کہ ”ہم اس لاش کو یہاں دفن ہونے نہیں دیں گے کیونکہ قادیانی کافر ہیں۔پولیس کے ذمہ دار حکام نے جھگڑا بڑھتے دیکھا تو اُنہوں نے بمبئی میونسپلٹی کے توسط سے ایک الگ قطعہ زمین میں اسے دفن کرا دیا مگر میت کو دفن کرنے کے لئے جو جگہ دی گئی وہ شہر سے بہت دور اور اچھوت اقوام کا مرگھٹ تھی۔روزنامہ ”ہلال“ بمبئی نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ جب مسلمانوں نے یہ خبر سنی کہ احمدی میت اس قبرستان میں دفن نہیں کی جائے گی تو اس اطلاع کے سنتے ہی مسلمانوں نے اسلام زندہ باد کے نعرے لگائے۔ہر شخص مسرت سے شادماں نظر آتا تھا“۔109