انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 45

انوار العلوم جلد 24 45 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی غیر احمدیوں کا احمدیوں کی لاشوں اور ان کی مولانا مودودی صاحب دفن کی ہوئی میتوں سے شرمناک سلوک کے بزرگوں اور 66 چودھویں صدی کے علماء دین و مفتیانِ شرع متین نے تو یہاں تک بھی عمل کیا ہے کہ عملاً اُنہوں نے احمدیوں کی لاشوں کو اپنے قبرستانوں میں دفن نہیں ہونے دیا بلکہ احمدیوں کی دفن کی ہوئی لاشوں کو نکال کر باہر پھینک دیا۔اس دعویٰ کی تائید میں مندرجہ ذیل واقعات پیش کئے جاتے ہیں :- (1) 20 اگست 1915ء کو کنانور (مالا بار) کے ایک احمدی کے۔ایں۔حسن کا چھوٹا بچہ فوت ہو گیا۔ریاست کے راجہ صاحب نے حکم دے دیا کہ چونکہ قاضی صاحب نے احمدیوں کے متعلق گفر کا فتویٰ دے دیا ہے اس لئے ان کی نعش مسلمانوں کے کسی قبرستان میں دفن نہیں ہو سکتی۔چنانچہ وہ بچہ اس دن دفن نہ ہوا۔دوسرے دن شام کے قریب مسلمانوں کے قبرستان سے دو میل دور اس کی نعش کو دفن کیا گیا۔102 (2) دسمبر 1918ء میں کٹک (صوبہ بہار) کے ایک احمدی دوست کی اہلیہ فوت ہو گئیں اُنہوں نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا۔جب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ ایک احمدی خاتون کی لاش ان کے قبرستان میں دفن کی گئی ہے تو انہوں نے قبر اکھیڑ کر اس لاش کو نکالا اور اس احمدی دوست کے دروازہ پر جا کر پھینک دیا۔103 یہ تو ایک مخالف اخبار ”اہلحدیث کی خبر ہے۔ہماری اطلاعات یہ تھیں کہ لاش غیر احمدیوں نے قبر سے نکال کر کتوں کے آگے ڈال دیا اور احمدیوں کے دروازوں کے سامنے کھڑے ہو گئے کہ کوئی نکلے تو سہی کس طرح نکلتا ہے اور لاش کو دفن کرتا ہے۔قریب تھا کہ کتے لاش کو پھاڑ ڈالیں کہ پولیس کو کسی بھلے مانس نے اطلاع دی اور پولیس نے آکر لاش دفن کروائی۔مقدمہ ہوا تو کسی شخص نے گواہی نہ دی اور صاف کہہ دیا کہ 104 ہم موجود نہ تھے۔کٹک میں اس سے پہلے بھی احمدیوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک ہو تا رہا ہے