انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 277

انوار العلوم جلد 24 277 سیر روحانی (7) نقشہ پر بھی دیکھو تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے باز کے منہ میں پرہی۔مگر فن لینڈ پر حملہ کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ فلاں جرنیل کو مارشل بنایا جاتا ہے اور وہ فن لینڈ کی لڑائی کے لئے جا رہا ہے۔فلاں جرنیل کو بھیجا جارہا ہے اور وہ اتنا مشہور ہے۔لاکھوں کی فوج بھجوائی جا رہی ہے حالانکہ فن لینڈ بیچارے کے سارے سپاہی دس ہزار سے زیادہ نہیں اور دس لاکھ کا لشکر بھجوایا جا رہا ہے اور سارے ملک میں اعلان ہو رہا ہے کہ اُٹھو! اُٹھو! مارو! مارو! وہ ہمیں مار چلا ہے اور ہم مجبور ہیں کہ اُس کا مقابلہ کریں۔غرض اس قسم کے اعلانات میں کوئی عقل نظر نہیں آتی تھی۔پس یہ نوبت خانہ کیا ہے یہ لوگوں سے ایک تمسخر ہے اور محض ایک کھیل بنائی گئی ہے یا ایک دھوکا ہے جو دیا جا رہا ہے۔ناجائز حملے اور بعض دفعہ میں نے دیکھا کہ ظالمانہ حملے ہوتے تھے۔لوگوں کا کوئی قصور ہی نہیں ہو تا تھا یو نہی حملہ کر دیا جاتا تھا لیکن کہا یہ جاتا تھا کہ ہم مظلوم ہیں اور ہوتا تھا دوسرا مظلوم۔مثلاً انگریزوں نے ٹیپو سلطان پر حملہ کر دیا حالانکہ ٹیپو نے اُن کا کچھ بھی نہیں بگاڑا تھا انہوں نے میسور کو ہضم کرنا چاہا۔گویا اُن کی بھیڑیا اور بکری والی مثال تھی۔کہتے ہیں ایک نہر سے بکری اور بھیڑ یا پانی پی رہے تھے بکری نیچے کی طرف پی رہی تھی اور بھیڑیا اوپر کی طرف پی رہا تھا۔اُس کا جو بکری کھانے کو دل چاہا تو بکری سے کہنے لگا دیکھو! میرا اپانی گدلا کرتی ہو شرم نہیں آتی اس قدر گستاخی کرتی ہو۔بکری نے کہا جناب! میں پانی گدلا کیسے کر سکتی ہوں آپ او پر پانی پی رہے ہیں اور میں نیچے پی رہی ہوں آپ کا پیا ہوا میری طرف آرہا ہے میرا پیا ہوا آپ کی طرف نہیں جا رہا۔اس پر جھٹ اُسے پنجہ مار کر کہنے لگا گستاخ ! بے ادب! آگے سے جواب دیتی ہے اور پھاڑ کر کھا لیا۔وہی حالت یہاں تھی۔انگریزوں نے بھی بہانہ بنا کر ٹیپو سلطان پر حملہ دیا۔یا بنگال کا بادشاہ سراج الدولہ تھا اُس کا کوئی قصور نہیں تھا۔انگریزی تاریخیں خود بھی مانتی ہیں کہ ایک ہندو سے جھوٹے خط لکھوائے گئے اور اُن خطوں کی بناء پر سراج الدولہ پر حملہ کر دیا گیا۔نہ بیچارے کے پاس کوئی طاقت تھی نہ حکومت تھی۔