انوارالعلوم (جلد 24) — Page 276
انوار العلوم جلد 24 ظالمانہ خونریزی 276 سیر روحانی (7) شاہ جہان یا چنگیز کی فوجیں روانہ ہوتی ہوں گی اور پھر ہزاروں ہزار کار یلا چلتا ہو گا۔لیکن جب میں نے غور کر کے دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ نوبت خانوں کی یہ بات بڑی مصنوعی چیز تھی۔ایک تو میں نے دیکھا کہ لڑائی میں انسانوں کا خون بہنا معمولی چیز نہیں اس کے لئے انسان کوئی حکمت بتاتا ہے ، غرض بتاتا ہے، اس کے فوائد بتاتا ہے، اسکے جواز کی دلیلیں بتاتا ہے لیکن یہاں محض ڈھول پیٹ کر خونریزی کو جائز قرار دیا جاتا تھا حالانکہ محض ڈھول پیٹنے سے اور دھم دھم دھم سے کیا بنتا ہے۔غلط پروپیگنڈا پھر میں نے دیکھا کہ بعض دفعہ بڑے بینڈ بجتے تھے اور فوجیں بازاروں میں پریڈ کرتی تھیں اور لوگ نعرے لگاتے تھے کہ سپاہیو! شاباش ! ملک کی حفاظت کے لئے مر جاؤ۔اور یہ سارا دھوکا ہوتا تھا کیونکہ جس کو مارنے کیلئے وہ جارہے ہوتے تھے وہ ایک معمولی سی حکومت ہوتی تھی اور ظاہر یہ کیا جاتا تھا کہ ہماری فوج نکلے گی اور قتل عام کرتی چلی جائے گی اور اُسے فتح کرے گی اور یوں اپنی بہادری اور دلیری کا سکہ بٹھا دے گی۔مثلاً جرمنی میں اعلان ہو رہا ہے کہ اے جرمن والو ! تم نے اپنے ملک کی حفاظت کرنی ہے اور لڑنے چلے ہیں پولینڈ سے جو ایک تھپڑ کی مار ہے۔انگلستان میں اعلان ہو رہا ہے کہ آجاؤ انگلستان والو ! تم بڑے بہا در ہو، تمہاری روایتیں بڑی مشہور ہیں اور جارہے ہیں شیر شاہ سے لڑنے کے لئے اور کہا جا رہا ہے کہ شاباش انگریز و اتم اتنے بہادر ہو حالانکہ مقابل میں چند ہزار آدمی ہیں اور جارہا ہے اتنے بڑے ملک کا لشکر۔پھر اُس کے پاس ایک گولی ہوتی تھی تو ان کے پاس سو گولی ہوتی تھی لیکن ظاہر یہ کرتے تھے کہ ہماری قوم اور ملک خطرہ میں ہیں پس اے بہادر و! اپنے ملک کی عزت کو بچاؤ حالانکہ عزت بچانے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔جائیں گے تو یو نہی ختم کر دیں گے۔جیسے میں نے بتایا ہے انگریزوں نے ٹرانسوال پر حملہ کیا یا جرمنوں نے زیکو سلوا کیا اور پولینڈ پر حملہ کیا اور ظاہر یہ کیا کہ ہماری عزت خطرہ میں ہے ہماری عزت برباد ہو گئی ہے حکومتیں ہمارے خلاف بڑے منصوبے کر رہی ہیں۔یا روس نے فن لینڈ پر حملہ کیا