انوارالعلوم (جلد 24) — Page 278
انوار العلوم جلد 24 278 سیر روحانی (7) انگریزوں کے پاس ہر قسم کے سامان تھے تو پیں بھی تھیں، گولہ بارود بھی تھا، منظم فوج بھی تھی یو نہی بہانہ بنا کے لے لیا۔پھر غدر کی لڑائی کو دیکھ لو۔مسلمان بادشاہ کی تو قلعہ سے باہر حکومت ہی نہیں اور یہ سارے ہندوستان کے بادشاہ اُس پر چڑھ کر گئے۔بھلا اُس کے پاس کونسی حکومت تھی لیکن غدر کا حال پڑھو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انگلستان روس کی لڑائی ہو رہی ہے اور اس کو اتنا شاندار دکھایا جاتا ہے کہ وہ مصائب انگریزوں پر پڑے اور ایسی ایسی مشکلات پیش آئیں اور انگریزوں نے وہ وہ قربانیاں کیں حالانکہ وہ بیچارہ ایک شطرنج کا بادشاہ تھا، دو چار دن اُس کا محاصرہ رکھا اور پھر اُسے پکڑ کر لے گئے اور اس کے بچوں کو پھانسیاں دے دیں۔تو میں نے دیکھا کہ بہت کچھ اس میں مبالغہ آرائی کی جاتی تھی۔خلاف امید ر شکست پھر میں نے دیکھا کہ باوجود اس کے کہ مد مقابل چھوٹا ہو تا تھا مظلوم ہو تا تھا پھر بھی بعض دفعہ نتائج اُن کے خلاف نکل آتے تھے۔جیسے پولینڈ پر جرمن نے حملہ کیا اور اُن کی مدد کے لئے انگریز اور فرانس آگئے ، آخر جر من تباہ ہو گیا۔فن لینڈ پر روس نے حملہ کیا اور انگلستان اور فرانس نے اس کو مدد دینی شروع کر دی چنانچہ باوجود اس کے کہ فوج اُس کے پاس تھوڑی تھی اُس کو اتنا سامان جنگ مل گیا کہ روس نے اُس سے صلح کر لی۔تو کئی دفعہ میں نے دیکھا کہ نوبت خانوں کے نتائج کچھ اور نکلتے ہیں۔ظاہر تو وہ یہ کرتے ہیں کہ ہم یوں کر دیں گے اور ڈوں کر دیں گے لیکن جب جاتے ہیں تو درمیان میں کوئی روک پید ا ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں باوجو د اس کے پڑی ہونے کے وہ بھی اُس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔غرض ان حملوں میں: (1) بسا اوقات ظلم کا پہلو ہو تا تھا۔(2) بعض اوقات محض نمائش ہوتی تھی، بالمقابل کوئی طاقت ہوتی ہی نہیں تھی۔ایک کمزور سی ہستی کو چُن کر دنیا پر رعب ڈالنے کے لئے ظاہر کیا جاتا تھا کہ گویا ایک بہت بڑے دشمن کی سرکوبی کے لئے تیاری کی گئی ہے۔