انوارالعلوم (جلد 24) — Page 186
انوار العلوم جلد 24 186 متفرق امور گا۔تو ہمارے انگریزی دان اور علماء بھی اس سے بہتر کام کر سکتے ہیں جو انہوں نے کیالیکن کرتے نہیں۔اس کی وجہ اول مطالعہ کے شوق کی کمی ہے دوسرے مطالعہ کی لائن مقرر نہیں کرتے۔حالانکہ ہر شخص اپنے لئے ایک طریق مقرر کر لیتا ہے کہ میں نے فلانی لائن پر چلنا ہے اور وہ اس میں تحقیقات کرتا رہتا ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض اسلامی مسائل ایسے ہیں کہ جن میں ہمارے علماء نے وہ بحث نہیں کی جو عیسائیوں کمبختوں نے کی ہے جو عربی نہیں جانتے۔مثلاً ہمارے علماء قرآن کے متعلق تیرہ سو سال سے یہی کہتے چلے آئے ہیں قرآن میں کوئی ترتیب نہیں اور یوروپین اس کو نقل کر کے ہم پر اعتراض کرتے چلے آئے ہیں۔لیکن بعض یوروپین محقق ایسے ہیں جنہوں نے لکھا ہے کہ ہم نے جب قرآن پر غور کیا تو ہمیں اس کی ترتیب نظر آگئی۔تو دیکھو عیسائی ہو کے اُن کا ذہن ادھر چلا گیا اور مسلمان مفسرین میں ایک بھی نہیں ہے جو ترتیب کامل کا قائل ہو سوائے ابن حیان کے کہ وہ ترتیب کا قائل ہے مگر وہ ادھوری ترتیب کا قائل ہے۔باقی سارے مفسرین جو ہیں وہ بے ترتیب ہی قرآن کو لئے چلے جاتے ہیں۔لیکن یورپ کا دشمن عیسائی لکھتا ہے کہ پہلے میرا خیال تھا کہ قرآن کے اندر ترتیب نہیں مگر جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اُس میں ترتیب ہے۔اور پھر یہ بھی لکھتا ہے کہ ہمارا علم کامل نہیں اگر عربی علوم کا ذخیرہ جو ہے اُس کو پورے طور پر دیکھا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔تو اب وجہ اس کی یہ ہے کہ ساری عمر وہ ایک بات میں لگا دیتے ہیں۔اس بات میں لگانے کی وجہ سے وہ بار یک در بار یک بار یک در بار یک باتیں نکالتے چلے جاتے ہیں۔مثلاً خدا بخش صاحب ہیں جو اُن کو کمال حاصل ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ وہ جرمن زبان جانتے تھے اور جرمنوں نے اس کے متعلق بڑی تحقیقات کی تھی۔وہ جرمن زبان سے ان چیزوں کو اخذ کر کے ہمارے ملک کے سامنے پیش کر دیتے تھے اور ہمارے علماء کو ان باتوں کا پتہ نہیں تھا۔ایسی تفصیل سے انہوں نے اسلامی جنگوں کے قواعد نکالے ہیں، اسلامی فوجوں کی تشکیل کا اندازہ لگایا ہے۔اُن کے اندر جو ڈسپلن قائم تھا اُس کا اندازہ کیا ہے، جس رنگ میں وہ فوجی پریکٹس کرنے تھے اُس