انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 185

185 انوار العلوم جلد 24 اور طریقہ تھا، رومی نیابت کا اور طریقہ تھا۔اس پر لمبی بحث کی جائے کہ کیا کیا طریقے تھے نیابت کے اور پھر اُن کے کیا فوائد حاصل ہوئے اور کیا نقصان پہنچے ؟ غرض غیر ملکوں پر حکومت کرنے کا اُن کا طریقہ تھا۔قانون سازی کا اُن کا طریقہ تھا۔آج تک دنیا اُن کے قانون کی اتباع کرتی ہے۔ہم نے دیکھنا ہے کہ پرانی قانون سازی اور اُن کی اصول سازی میں کیا فرق ہے؟ کیوں اسلامی قانون کو ہم برتری دیویں رو من قانون پر ؟ اُس کے اندر فرق کیا ہے ؟ کیا انسانی حقوق یا انسانی امن کی حفاظت کے لئے اس میں کوئی بہترین تجویز کی گئی ہے ؟ پھر اُن کے قانون کے پس منظر کے متعلق باتیں نکل سکتی ہیں۔اسی طرح اور بہت سارے مضامین نکل سکتے ہیں جن سے صرف رومی کتابیں پڑھنے والا آدمی ہمارے لٹریچر کو اتنا مالدار بنا سکتا ہے کہ ساری دنیا نقلیں کرے اور آکے کہے یہ بڑی مفید باتیں نکل رہی ہیں جو ہمارے ذہن میں نہیں تھیں۔ہمارے اکثر دوست اس علمی رجحان سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ہم مستقل علمی میدان میں پیچھے رہ گئے ہیں اپنے خالص دائرہ کے باہر۔دوسرے علماء ہم سے آگے ہیں۔مثلاً شبلی تاریخ کے معاملہ میں ہم سے آگے ہیں اور اسی طرح نانوتوی صاحب جو ہیں وہ بعض تحقیقاتوں میں یقیناً ہمارے علماء سے آگے ہیں۔مولانا چراغ الدین صاحب چڑیا کوئی عیسائی اور یہودی لٹریچر کے معاملہ میں ہمارے آدمیوں سے آگے ہیں۔مولوی خدا بخش کلکتوی جو ہیں وہ اسلامی تمدن کے متعلق تحقیقات میں ہمارے علماء سے آگے ہیں۔مولوی عبدالحی فرنگی محلی جو ہیں فقہ کے متعلق بعض بحثیں انہوں نے اس طرز پر کی ہیں کہ وہ ہمارے علماء سے آگے ہیں۔بلگرامی صاحب اسلامی تاریخ کے متعلق ہمارے علماء سے آگے ہیں حالانکہ یہ بعد میں آئے ہیں۔ان کو بہت زیادہ فراغت حاصل ہے۔ان کو بہت زیادہ لٹریچر پڑھنے کا موقع ہے۔ان کو جماعت کی امداد زیادہ حاصل ہے۔ان کے لئے وہ مشکلات نہیں ہیں جو اُن لوگوں کے لئے تھیں۔سوال صرف یہ ہے کہ یہ لوگ کتاب پڑھتے ہیں کسی مقصد کو سامنے نہیں رکھتے۔اگر مقصد مد نظر رکھیں کہ فلاں نقطہ نگاہ کی میں نے تحقیقات کر جانی ہے اور اس کے لئے اتنا لٹریچر میں نے ضرور پڑھ جانا ہے تو پھر اُن کا حوصلہ بڑھ جائے