انوارالعلوم (جلد 24) — Page 187
انوار العلوم جلد 24 187 کی تشریحیں لکھی ہیں کہ ہمیں حیرت آجاتی ہے کہ ہماری تاریخوں میں وہ نہیں پائی جاتیں۔انہوں نے کوئی ٹکڑہ کہیں سے لیا، کوئی ٹکڑہ کہیں سے لیا ساری عمر لگا کر پھر ایک کتاب لکھ دی کہ اسلامی ابتدائی زمانہ میں اُن کا فوجی انتظام یوں تھا۔اُن کے خزانہ کا انتظام یوں تھا اُن کے قانون کا انتظام یہ تھا۔اسی طرح ہمارے لوگوں نے خاص موضوع کو منتخب کر کے اُس کے پیچھے پڑ جانے کی عادت نہیں ڈالی۔حالانکہ مطالعہ کے وقت کسی خاص امر کو چن لینا یا کسی گتھی کو چن لینا تحقیق کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پس چاہئے کہ ہر تعلیم یافتہ آدمی ہماری بحث میں چاہے انگریزی دان ہو یا عربی دان ہو اپنے لئے ایک فیصلہ کرلے کہ میں نے فلاں مضمون کے متعلق تحقیقات کرنی ہے۔پہلا کام وہ یہ کرے کہ جس کو اُس مضمون کا واقف سمجھے اُس سے ملے۔مثلاً میرے پاس آجائے۔ایک فوجی ہے وہ کہتا ہے میں نے فوجی امور تحقیقات کرنی ہے میرے پاس آجائے اور کہے جی مجھے یہ شوق پیدا ہوا ہے کوئی آپ کتاب بتا سکتے ہیں جس کے پڑھنے سے مجھے علم حاصل ہو سکے ؟ کوئی دو کتابیں میں نے بتادیں دو کسی اور نے بتا دیں دو کسی اور نے بتادیں اُن کو جمع کرنا شروع کیا۔اُن کو پڑھنا شروع کیا۔آگے پھر اُن میں سوالات پیدا ہوئے اُن کو لکھا۔غرض تھوڑے سے مطالعہ کے بعد ایک مکمل مضمون پید اہو جائے گا جو دنیا کے لئے بالکل نرالا ہو گا۔پس چاہئے کہ ہر تعلیم یافتہ کسی زبان اور کسی علم کی چند کتابیں اپنے لئے مقرر کرلے کہ سال میں اتنی کتب ضرور پڑھنی ہیں دوسرے اُن کو غور سے پڑھے اور حاشیہ پر تین قسم کے نوٹ کرے۔ایک وہ باتیں جو نئی اور اچھی ہوں یا پرانی بات ہو لیکن اچھے پیرایہ میں بیان کی گئی ہو۔دوسرے وہ غلط باتیں جو اُس کو غلط تو نظر آتی ہیں لیکن اس کو اُن کا جواب معلوم نہیں تحقیق طلب ہیں۔تیسرے وہ باتیں جو غلط ہیں۔مطالعہ کے لئے تین مفید باتیں ہمارے پرانے زمانہ کے علماء نے اس کے لئے ایک طریقہ اختیار کیا ہوا تھا وہ حاشیہ پر تین نوٹ لکھا کرتے تھے۔کتاب پڑھی جب کوئی اچھی بات نکلی کہ جس سے