انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 509

انوار العلوم جلد 24 509 سال 1954ء کے اہم واقعات چھ مہینے سال تک متواتر بخار رہا اور اس کے ایک دو حملے ہوئے۔حضرت خلیفہ اول کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بے انتہا محبت تھی اس لئے وہ اس بات کو اور نگاہ سے دیکھتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجھے اپنا بیٹا سمجھتے ہوئے اور نگاہ سے دیکھتے تھے۔ایک ہی واقعہ کو دونوں نے مختلف شکلوں سے دیکھا۔مجھے تو یاد نہیں کہ اُن دنوں میں میں خاص طور پر بیمار تھا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی وفات سے دس پندرہ دن پہلے بغیر میرے کہنے کے یا بغیر میرے کسی قسم کی بیماری کی شکایت کرنے کے لاہور میں ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کو بلایا اور کہا محمود کی صحت بہت خراب رہتی ہے مجھے اس کی بڑی فکر ہے آپ اس کو اچھی طرح دیکھیں اور اس کے لئے کوئی علاج تجویز کریں۔یہ بھی کہا کہ میری بھی صحت اچھی نہیں پر اس کی زیادہ خراب ہے اور اس کی مجھے بہت فکر ہے۔مجھے نہیں یاد کہ اُن دنوں میں مجھے خاص طور پر کوئی بیماری تھی صرف چھ مہینے پہلے بخار رہا تھا لیکن اس حالت کو حضرت خلیفہ اول نے اور طرح بیان فرمایا۔میں ایک دفعہ ان کے پاس گیا تو کہنے لگے میاں! تم بیمار ہو تمہاری صحت بڑی خراب ہے۔پر مجھے مرزا صاحب کی فکر ہے۔ان کی صحت تم سے بھی زیادہ خراب ہے۔تو انہوں نے اپنی محبت میں بیماریوں کا توازن یہ کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیماری کو بڑھایا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی محبت پدری کی وجہ سے میری بیماری کو بڑھایا۔بہر حال وہ حالت اس قسم کی تھی کہ میں بھی اور جو واقف لوگ تھے وہ بھی سمجھتے تھے کہ میں کسی لمبی عمر کو نہیں پہنچ سکتا اور کوئی لمبا بوجھ اٹھانے والا کام نہیں کر سکتا۔مجھے یاد ہے کہ شروع ایام خلافت میں جب مجھ پر جماعت نے اتفاق کیا تو میرے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ میں یہ بوجھ کہاں اٹھا سکتا ہوں اور بعض دفعہ اس سے بڑی گھبراہٹ ہوتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت میں اپنے دل کو اس رنگ میں تسلی دیا کرتا تھا کہ میری صحت تو ایسی ہے ہی نہیں کہ میں زیادہ دیر تک زندہ رہوں اس لئے یہ بوجھ تھوڑے دنوں کا ہی ہے کوئی زیادہ فکر کی بات نہیں۔لیکن ان حالات کے ہوتے ہوئے باوجود بیماریوں کے اور باوجود اس حملہ کے جو پچھلے سال مجھ پر ہوا اب میں اس عمر کو