انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 508

انوار العلوم جلد 24 508 سال 1954ء کے اہم واقعات تربیتی مضمون کم ہو جاتے ہیں اور بعض علمی مضامین بھی میں ضمنی طور پر لے آتا ہوں اور بعض سالوں میں تو وہ اتنے اہم تھے کہ اگر ان کو محفوظ رکھا جاتا تو وہ بہت کچھ کارآمد ہو سکتے تھے مگر بوجہ اس کے کہ یہ تربیتی تقریر کہلاتی ہے اس کے لکھنے اور سنبھالنے کی پوری احتیاط نہیں کی جاتی۔کئی تقریریں تو پڑی ہوئی ہیں میرے پاس ہی وہ لکھ کر بھجوا دیتے ہیں۔اگر ہمارے زود نویسی کے محکمہ والے ذرا بھی توجہ کریں تو ان کو اخبار میں شائع کرایا جاسکتا ہے۔بہر حال آج میں متفرق امور کے متعلق کچھ کہوں گا اور سب سے پہلے میں اس سلسلہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج اور کل کے تجربہ سے یہ معلوم ہو ا ہے کہ تربیتی تقریریں محض لذتِ گوش کے لئے سنی جاتی ہیں۔ان کو مد نظر نہیں رکھا جاتا اور ان ہدایات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی جاتی۔سب سے پہلے میں ملاقاتوں کو لیتا ہوں۔ملاقاتوں کی کئی غرضیں ہوتی ہیں۔بعض غرضیں تو بغیر اس کے کہ کارکن کوئی خدمت کریں یا نہ کریں پوری ہو جاتی ہیں اور بعض غرضیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب تک کارکن اپنا فرض صحیح طور پر ادا نہ کریں پوری نہیں ہو تیں۔اور بعض غرضیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب تک پریذیڈنٹ اور سیکر ٹری اپنے فرض کو پوری طرح ادا نہ کریں وہ پوری نہیں ہو سکتیں۔مثلاً جہاں تک رشتہ محبت کا تعلق ہے جو احباب آتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ ہم مصافحہ بھی کر لیں اور شکل بھی دیکھ لیں۔کئی تو یہ کہہ کر رو پڑتے ہیں کہ خبر نہیں اگلے سال تک ہم زندہ بھی رہیں گے کہ نہیں رہیں گے۔یہ ان کا ادب بھی ہوتا ہے، کچھ حجاب بھی ہوتا ہے ورنہ بسا اوقات ان کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ پتہ نہیں آپ اگلے سال تک زندہ بھی رہیں گے یا نہیں اور یہ ایک سچی بات ہے۔کوئی انسان اس دنیا میں ہمیشہ تک زندہ رہا ہی نہیں آخر ہر شخص نے کسی نہ کسی وقت اس دنیا سے جانا ہے۔اپنی مثال کو میں دیکھتا ہوں تو وہ ایک معجزانہ نظر آتی ہے کیونکہ مجھے بچپن میں ہی کئی قسم کی بیماریاں لگی ہوئی تھیں۔میں چھوٹا ہی تھا جبکہ مجھے خسرہ نکلا پھر اس کے بعد کالی کھانسی ہو گئی اور یہ بیماری اتنی شدید ہوئی کہ اس سے خنازیر پیدا ہو گئیں۔وہ خود اپنی ذات میں ایک مہلک مرض ہے۔اس کے بعد جب قریب بہ بلوغت پہنچا تو