انوارالعلوم (جلد 24) — Page 510
انوار العلوم جلد 24 510 سال 1954ء کے اہم واقعات پہنچ گیا ہوں کہ اس سال کے ختم ہونے پر جنوری میں میں چھیاسٹھ سال کا ہو جاؤں گا۔گویا گورنمنٹ جس عمر میں جا کر پنشن دیتی ہے اس سے گیارہ سال بڑی عمر ہو جائے گی اور اب جو مالی تنگی کی وجہ سے گورنمنٹ نے پنشن کی عمریں بڑھادی ہیں اس کے لحاظ سے بھی چھ سال زیادہ ہو جائے گی۔اور وہ جو تکلیفیں آتی ہیں اگر ان کو نظر انداز کر دیا جائے اور درمیانی طور پر جو جھٹکے لگتے ہیں ان کو بھلا دیا جائے تو ابھی تک خدا تعالیٰ کے فضل سے کام کے لحاظ سے میرے اندر طاقت ہوتی ہے۔بوجھ پڑتے ہیں تو میں ان کو اٹھا لیتا ہوں۔اگر محنت کرنی پڑتی ہے تو کسی نہ کسی رنگ میں، کسی نہ کسی وقت میں اس کی کوئی نہ کوئی صورت پیدا کر لیتا ہوں۔بہر حال اس سال کی بیماری کی وجہ سے اور اس سال کے حملہ کی وجہ سے اس قسم کا ضعف مجھے اس سال پیدا ہوا کہ میں سمجھتا ہوں وہی وجہ ہے کہ میں آج اپنے آپ کو بیمار محسوس کرتا ہوں۔سینہ میں درد ہو رہی ہے ، گلا بیٹھا ہوا ہے، نزلہ کی حالت ہے ، کمر میں درد ہے، جسم میں درد ہے ، بخار ہے واللهُ اَعْلَمُ کیا سبب ہے اور اس بیماری کے ساتھ اس کا کیا جوڑ ہے۔لیکن میں عام طور پر رات کو کام کرنے کا عادی تھا۔دن کو تو یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص آگیا اس نے کہا ملنا ہے۔دوسرا آ گیا وہ بھی کہتا ہے ملنا ہے۔تیسر ا آ گیاوہ بھی کہتا ہے ملنا ہے۔پھر کاغذات آگئے ان کے دیکھنے بھالنے میں جو اصل کام مطالعہ کا اور فکر کا اور غور کا اور مسائل نکالنے کا اور لکھنے کا ہوتا تھا اس کے لئے دن کو فرصت نہیں ملتی تھی۔چنانچہ جو پہلی ایک ہزار صفحہ کی تفسیر چھپی ہوئی ہے وہ ساری کی ساری میں نے رات کو لکھی ہے۔یہ سمجھ لو کہ وہ ہزار صفحہ کی کتاب ہے اور اس کے ایک صفحہ میں کم سے کم پانچ کالم آتے ہیں گویا کالموں کے لحاظ سے اس تفسیر کا پانچ ہزار کالم بنتا ہے۔اور ایک آدمی اگر تیزی سے لکھے ، حوالے دیکھنے کی ضرورت نہ ہو، سوچنے کی ضرورت نہ ہو تو میں نے دیکھا ہے گھنٹہ بھر میں سات ساڑھے سات کالم فل سکیپ سائز کے لکھتا ہے۔اور اگر اس کو حوالے دیکھنے ہوں، آیتوں کا مقابلہ کرنا ہو ، لغت دیکھنی ہو ، بعض مشکل مضمونوں کو سوچنا ہو جیسا کہ قرآن شریف کی تفسیر ہوتی ہے تو شاید بعض لوگ دو تین کالم ہی لکھ سکیں