انوارالعلوم (جلد 24) — Page 468
انوار العلوم جلد 24 468 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار والوں نے ہم پر سخت ظلم کیا ہے اگر واقعات ان سے تعلق رکھتے ہوں تو وہ انہیں صحیح اور درست سمجھتے ہیں لیکن اگر وہی بات مسلمانوں کے متعلق ہو تو کہتے ہیں یہ چیز سماعی ہے اس لئے اسے درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔مسلمانوں کا علم حدیث جس کو علم کی حد کے اندر رکھنے کے لئے بہت بڑی محنت اور کوشش کی گئی ہے۔اس کے متعلق بہت سے قوانین مرتب کئے گئے ہیں۔جن کے ذریعہ احادیث کو پر کھا جاتا ہے۔اس کے متعلق یورپین مصنفین کہتے ہیں کہ یہ کوئی علم نہیں اس کی بنیاد سماع پر ہے اور جو چیز سماعی ہو وہ قابل اعتبار نہیں ہوتی لیکن انجیل جس کے راوی خود کہتے ہیں کہ یہ مسیح سے سینکڑوں سال بعد مرتب کی گئی ہے۔اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ مسیح کا قول ہے اب دیکھ لو جس کے متعلق کوئی احتیاط نہیں کی گئی۔وہ تو ان کے نزدیک یقینی اور قطعی ہے اور جس چیز کے متعلق ہر طرح احتیاط برتی گئی وہ محض سماعی باتیں ہیں اسے علم نہیں کہا جا سکتا۔لیکن ان کے اس تعصب کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمیں یہ ماننے سے انکار نہیں کہ سماعی باتوں میں غلطی ہو سکتی ہے کہنے والے کا کوئی مطلب ہو تا ہے اور سننے والا کچھ سمجھ لیتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک جنگ میں کچھ آدمی مارے گئے۔ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچیرے بھائی یعنی حضرت علی کے بڑے بھائی بھی شامل تھے مدینہ میں یہ رواج تھا کہ مرنے والوں کا ماتم کیا جاتا تھا اور اس کے متعلق ان کا یہ خیال تھا کہ ماتم کرنے سے مرنے والے کی روح خوش ہوتی ہے۔مسلمان ابھی حدیث العہد تھے اور ان سے یہ احساس پورے طور پر مٹا نہیں تھا۔جب عورتوں نے ان لوگوں کی موت کی خبر سنی تو انہوں نے سمجھا ہمیں ماتم کرنا چاہئے تاکہ دوسرے لوگ یہ سمجھیں کہ یہ لوگ اپنے مردوں کی قدر کرتے ہیں چنانچہ ئین شروع ہوا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شور سنا تو دریافت فرمایا یہ کیا ہے صحابہ نے بتایا کہ عورتیں جنگ میں مرنے والوں پر رو رہی ہیں۔آپ نے فرمایا یہ بہت بُری بات ہے اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ویسے بھی مر دوں پر رونا درست نہیں اس سے قوم میں سے بہادری اور جرات کا احساس جاتا رہتا ہے اور اس کی ہمت گرتی ہے۔جاؤ