انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 469

انوار العلوم جلد 24 علیہ 469 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار انہیں منع کرو۔چنانچہ حضرت ابو ہریرہ ان لوگوں کے پاس گئے اور کہا رسول کریم صلی اللہ سلم فرماتے ہیں بین ختم کرو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔عورتوں کے اندر جوش پایا جاتا تھا وہ اپنے مردوں کو یاد کر رہی تھیں اور رو رہی تھیں۔بین میں ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی لوگ رونے لگ جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ جاؤ مرے ہمارے رشتہ دار ہیں۔ہمارے دل دکھے ہوئے ہیں اور ہم رو رہی ہیں تم منع کرنے والے کون ہوتے ہو حضرت ابوہریرۃ واپس آگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے ان عورتوں سے کہا تھا کہ وہ ماتم کرناختم کر دیں مگر وہ رکتیں نہیں۔آپ نے فرمایا أُحْتُ التَّرَابَ عَلَى وُجُوهِهِنَّ 2 اُس فقرہ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ تو ان کے منہ پر مٹی ڈال لیکن محاورہ میں اس کے یہ معنے ہیں کہ تو انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دے۔ہمارے ہاں بھی اس موقع پر کہتے ہیں ”سکھ پا اب اس کا یہ مطلب نہیں کہ عملی طور پر مٹی مونہوں پر ڈالی جائے بلکہ اس کا صرف یہ مطلب ہوتا ہے کہ اسے اپنی حالت پر چھوڑ دو یہی محاورہ عربی زبان میں بھی پایا جاتا ہے۔کہ ان کے مونہوں پر مٹی ڈالو یعنی انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دے۔حضرت ابوہریرۃ نے اس کا مفہوم نہ سمجھا اور لفظی ترجمہ کی بناء پر اپنی جھولی میں مٹی بھرنی شروع کی حضرت عائشہ نے انہیں جھولی میں مٹی بھرتے دیکھ لیا اور فرمایا تم یہ کیا حماقت کر رہے ہو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تو نہیں تھا کہ واقع میں عورتوں کے مونہوں پر مٹی ڈالی جائے مان لیا کہ وہ غلطی کا ارتکاب کر رہی ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ان کے مونہوں پر مٹی ڈالی جائے بلکہ آپ کا مطلب صرف یہ تھا کہ تو انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دے۔اگر حضرت عائشہ حضرت ابوہریرہ کو جھولی میں مٹی ڈالتے ہوئے نہ دیکھتیں تو یہ روایت آگے چلی جاتی۔پھر اگر حضرت ابوہریرہ لفظی روایت کر دیتے تو بعض لوگ اس کے معنی سمجھ لیتے اور بعض نہ سمجھتے لیکن اگر آپ معنوی روایت کر دیتے تو اس کا مفہوم سمجھنے میں کوئی اختلاف نہ ہوتا۔بلکہ سب مسلمان یہی کہتے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب عورتیں بین کریں تو ان کے مونہوں پر خوب مٹی ڈالو اور حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے کہ میں نے آپ کے