انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 467

انوار العلوم جلد 24 467 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطا کہ اسلام ایک گندہ اور غیر معقول مذہب ہے۔اس کے نزدیک عورتوں کے اندر روح نہیں پائی جاتی اور وہ موت کے بعد کتوں اور بلیوں کی طرح ضائع کر دی جائیں گی تو تم جانتے ہو سب عورتیں اپنے بچوں کو یہی تعلیم دیں گی کہ اس غیر معقول اور گندے مذہب کو مٹانا ضروری ہے پس ان کے لحاظ سے یہ تاریخ علم ہے لیکن ہمارے لحاظ سے وہ جہالت اور قیاسات کا مجموعہ ہے گویا ایک جہت سے مستشرقین کی یہ تاریخ علم ہے اور ایک جہت سے جہالت ہے۔بہر حال تاریخ بھی دنیوی علوم میں سے ایک اہم علم ہے کیونکہ آج یہاں بیٹھے ہوئے ہم ہزاروں سال پہلے کے واقعات اور حالات کا اندازہ نہیں لگا سکتے لیکن تاریخ کے مطالعہ سے ہم ان سے واقفیت حاصل کر لیتے ہیں۔ایک آدمی کسی سے کچھ واقعات سنتا ہے وہ انہیں دوسرے کے آگے بیان کرتا ہے اور اس طرح وہ واقعات ہم تک پہنچ جاتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سننے والے آگے بیسیوں غلطیاں کر جاتے ہیں۔ایک واقعہ آتا ہے کہ شہزادہ ویلیز یورپ کی پہلی جنگ میں ایک جگہ فوج کا معائنہ کرنے گئے۔وہیں فوجیوں نے ایک قسم کا مظاہرہ کیا۔وہاں یہ تجربہ کیا گیا کہ ایک سپاہی دوسرے سے ایک فقرہ کہے اور وہ اس سے اگلے سپاہی سے وہ فقرہ کہے اور وہ اگلے سپاہی سے کہے پھر دیکھا جائے کہ آخر پر جاکر وہ کیا بن جاتا ہے جو فقرہ پہلے سپاہی نے دوسرے سے کہا۔وہ یہ تھا کہ ” پرنس آف ویلز ہیز کم “ (PRINCE OF WALES HAS COME) لیکن کئی میل تک کھڑی ہوئی فوج کے آخر تک جو پیغام پہنچا وہ یہ تھا۔کہ ”گو می ٹو پینسز “ (GIVE ME TWO PENCES) اب دیکھ لو کہ سنتے سنتے فقرہ کیا سے کیا ہو گیا۔کسی کی ٹون لہجہ یا ایکسنٹ (Accent) میں فرق پڑا تو اس نے کچھ اور سن لیا۔اسی طرح آہستہ آہستہ اس میں فرق پڑتا گیا اور آخر میں اس کا مفہوم بالکل ہی بدل گیا۔یہی حال تاریخ میں بھی ہو سکتا ہے۔وہاں ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے تک ایک واقعہ پہنچتا ہے اور لہجہ اور ٹون میں فرق پڑنے سے ان میں فرق پڑنا لازمی ہوتا ہے۔پس اس میں شبہ نہیں کہ غلطی کا امکان اس میں بھی موجود ہے لیکن یورپ