انوارالعلوم (جلد 24) — Page 466
انوار العلوم جلد 24 466 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار بعض باتیں سنی تو ہوں گی۔جن لوگوں نے یورپین مصنفین کی کتابیں نہیں پڑھیں۔ان کے لئے شاید یہ نئی بات ہو لیکن جو لوگ اور مینٹلسوں(ORIENTALIST) کی کتابیں پڑھنے کے عادی ہیں۔انہوں نے یہ بات پہلے ہی پڑھی ہو گی۔بہر حال جن لوگوں کو اس کا علم نہیں ان کے لئے یہ بات بالکل اچنبھا ہے کہ یورپین مصنفین اسلام کے متعلق اس قدر جھوٹ بولتے ہیں کہ وہ اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کی نعش نعوذ باللہ زمین اور آسمان کے درمیان لٹکی ہوئی ہے۔اب کیا تم نے یہ بات کسی جاہل سے جاہل مسلمان سے بھی سنی ہے تم نے یہ تو سنا ہو گا کہ فلاں بزرگ نے مردہ پر پانی پھینکا اور وہ زندہ ہو گیا تم نے یہ بھی سنا ہو گا کہ فلاں بزرگ نے پھونک ماری تو مکان سونے کا بن گیا اگر تم میں سے کسی نے امام شعرانی کی کتاب پڑھی ہو گی تو اس نے اس قسم کے کئی واقعات اس میں پڑھے ہوں گے لیکن ان سب افتراؤں کے اندر تم نے یہ افتراء نہ پڑھا ہو گا نہ سنا ہو گا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی لعش نَعُوذُ بِاللهِ زمین اور آسمان کے درمیان لٹکی ہوئی ہے لیکن یورپین مصنفین یہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے پھر تم میں سے بعض نے شاید قرآن کریم با ترجمہ نہ پڑھا ہو گا لیکن مسلمان ہونے کی وجہ سے تم سب نے بعض باتیں سنی ہوں گی تم نے سنا یا پڑھا ہو گا کہ قرآن کریم میں عورتوں اور مردوں دونوں کا ذکر ہے دونوں کی نمازوں اور استغفار کا ذکر ہے دونوں کے اچھے کاموں کی تعریف کی گئی ہے لیکن یورپین مصنفین اپنی کتابوں میں بلا استثناء لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی رو سے عورت میں روح نہیں پائی جاتی۔مرنے کے بعد جس طرح کتابلی اور دوسرے جانوروں کی روحیں ضائع کر دی جائیں گی اسی طرح عورتوں کی روحیں بھی ضائع کر دی جائیں گی اور وہ جنت میں نہیں جائیں گی۔اب آپ لوگوں کے نزدیک یہ بات الف لیلیٰ کے واقعات سے بھی زیادہ جھوٹی ہے کیونکہ الف لیلی نے پڑھنے والوں کے لئے دلچسپی کے سامان تو مہیا کئے ہیں لیکن اس بات نے تمہارے دلوں کو مجروح کیا ہے اور دکھ دیا ہے۔پس یہ تاریخ یورپین اقوام کے لئے تو علم ہے کیونکہ ان کو عورتوں میں کافی نفوذ حاصل ہے اگر ان کے اندر یہ چیز پیدا کر دی جائے