انوارالعلوم (جلد 24) — Page 465
انوار العلوم جلد 24 465 تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار ہندوستان کا ایک مشہور واقعہ ہے گورنمنٹ نے بمبئی کی پورٹ کو گہرا کرنے کا منصوبہ تیار کیا اور اس کے لئے ایک نقشہ بنایا گیا اور کروڑوں کی مشینری اس غرض کے لئے درآمد کی گئی۔لیکن کلکولیشنز (CALCULATIONS) میں غلطی ہو گئی۔جس کی وجہ سے یہ کروڑوں کی مشینری بیکار ہوگئی اور اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جا سکا۔پس اندازہ غلط ا ہو جانے یاماہرین سے غلطی ہو جانیکی وجہ سے یہ کہنا کہ وہ علم نہیں غلط ہے مثلاً حساب کو اس لئے علم نہیں کہتے کہ اس میں کوئی غلطی نہیں کر سکتا بلکہ اسے اس لئے علم کہا جاتا ہے کہ قواعد کے مطابق اگر عمل کیا جائے تو اس میں امکانِ صحت موجو د ہے اور جس علم میں امکان صحت موجود ہے۔اسے ہم علم کہہ دیتے ہیں اور جس میں امکانِ صحت موجود نہ ہو۔اسے ہم علم نہیں کہتے۔تاریخ کو بھی ہم اس لئے علم کہتے ہیں کہ اس میں امکان صحت موجود ہے۔تاریخ کے علم کو صحیح طور پر استعمال نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں نے بہت نقصان اٹھایا ہے ایک وقت آیا جب مسلمانوں نے اپنے آباو اجداد کی باتوں کو بھلا دیا اور ان کی تاریخ یورپین مصنفین نے لکھی چونکہ ان کے سامنے یورپ کا بڑھتا ہوا اقتدار اور قومی ترقی تھی۔اس لئے انہوں نے سمجھا کہ علم تاریخ کو بھی چاہئے کہ وہ ان کے اقتدار میں مدد کرے اور وہ مدد اسی طرح کر سکتا ہے کہ دشمن کا منہ اتنازیادہ سیاہ کر کے دکھایا جائے کہ قوم اس کی طرف رغبت نہ کرے اور اپنی قوم کے کردار کو شاندار کر کے دکھایا جائے تا نوجوانوں کی ہمت بڑھے۔پس ان کے لئے یہ علم ، علم تھا۔ان کی ترقی جھوٹ کے ذریعہ ہی ہو سکتی تھی اس لئے انہوں نے واقعات کو غلط طور پر پیش کیا اگر وہ جھوٹ نہ بولتے اور واقعات کو غلط طور پر پیش نہ کرتے تو وہ ترقی نہیں کر سکتے تھے پس یہ تاریخ ان کے لحاظ سے علم تھا کیونکہ ان کے مد نظر یہ تھا کہ اس کے پڑھنے سے مسلمانوں کی بد اخلاقی جہالت اور ذلت نظر آئے اور یورپ کی ترقی دوسری اقوام کو مسحور کر دے لیکن ہمارے نزدیک یہ جہالت تھی کیونکہ یہ محض جھوٹ تھا۔اس کا اصل واقعات سے قریب کا تعلق بھی نہیں تھا اور باتیں تو جانے دو تم سب مسلمان ہو مسلمان ہونے کی وجہ سے تم نے