انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 412

انوار العلوم جلد 24 412 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب کے خلاف سراسر جھوٹ بولا جاتا تھا۔اگر جماعت احمدیہ کے عقائد غلط تھے تو ان کو بیان کرنا کافی تھا جھوٹ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔مثلاً متواتر یہ کہا جاتا تھا کہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے حالانکہ یہ سراسر افتراء تھا۔احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے تھے، اور مانتے ہیں اور قیامت تک مانتے رہیں گے۔کیونکہ قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کہا گیا ہے اور احمدی قرآن کریم کو مانتے تھے ، مانتے ہیں اور قیامت تک مانتے رہیں گے اور بیعت میں بھی ختم نبوت کا اقرار لیا جاتا ہے۔اس جھوٹ کے بنانے کی وجہ یہی تھی کہ علماء جانتے تھے کہ اس کے بغیر لوگوں کو غصہ نہیں دلایا جا سکتا۔اسی طرح لوگوں کے سامنے یہ کہا جاتا تھا کہ احمدی غیر احمدی کو کافر کہتے ہیں اور یہ کبھی بھی نہیں کہا جاتا تھا کہ ہم نے دس سال تک ان کو کافر کہا ہے۔اس کے بعد انہوں نے ہمیں کافر کہنا شروع کیا ہے۔اور نہ کبھی یہ کہا جاتا تھا کہ کفر کے جو معنی ہم کرتے ہیں احمدی وہ معنے نہیں کرتے احمدی فلاں معنے کرتے ہیں (جو حضرت امام جماعت احمدیہ کے خطبہ مطبوعہ الفضل 3 مئی 1935ء میں بیان کیے گئے ہیں) جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ مذہب کا دفاع مقصود نہیں تھا بلکہ سیاسی طور پر ایک فتنہ پیدا کرنا مقصود تھا۔ورنہ کیا خدا جھوٹ کا محتاج ہوتا ہے؟ کیا خدا دھوکا بازی کا محتاج ہوتا ہے ؟ اسی طرح یہ کہا جاتا تھا کہ احمدی جماعت مسلمانوں کی سیاست سے کٹ گئی ہے کیونکہ وہ ہمارے جنازے نہیں پڑھتی اور یہ کبھی بھی نہیں کہا گیا کہ ہم نے احمدیوں کو سیاست سے کاٹ دیا ہے کیونکہ ہم نے ان کے جنازے پڑھنے سے لوگوں کو روک دیا ہے۔اگر وہ ان باتوں کو ظاہر کرتے تو لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا کہ علماء کا مقام یہ ہے کہ کثیر التعداد جماعت جو چاہے کرے اسے جائز ہے اور قلیل التعداد جماعت کو صحیح طور پر اپنے دفاع کرنے کی بھی اجازت نہیں اور عقل مند لوگ سمجھ جاتے کہ یہ مذہبی جھگڑا نہیں سیاسی جھگڑا ہے۔ہم کورٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ اس فتنہ کو دور کرنے کا ایک آسان ذریعہ یہ ہے کہ وہ علماء کو بھی مجبور کرے اور ہمیں بھی مجبور کرے کہ جو فتاویٰ ان کے ہمارے بارے میں ہیں وہ بھی اکٹھے کر دیئے جائیں اور جو فتاویٰ