انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 413

انوار العلوم جلد 24 413 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب ہمارے ان کے بارہ میں ہیں وہ بھی اکٹھے کر دیئے جائیں اور ان کی وہ شائع شدہ تشریحات بھی شامل کی جائیں جو دونوں فریق آج سے پہلے کر چکے ہیں اور پھر ان فتووں کو جماعت احرار، مجلس عمل ، جماعت اسلامی اور جماعت احمدیہ کے خرچ پر شائع کیا جائے اور آئندہ یہ فیصلہ کر دیا جائے کہ سوائے اس مجموعی کتاب کے ان فتووں کے مضمون کے متعلق اور کوئی بات کسی کو کہنے یا لکھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ہم خود اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں ہم اس کتاب کا آدھا خرچ دینے کے لئے تیار ہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ یہ مولوی صاحبان جو جماعت احرار ، جماعت اسلامی اور جماعت عمل کے نمائندے ہیں بھی اس بات پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔غرض کلی طور پر ان فسادات کی ذمہ داری جماعت اسلامی، مجلس احرار اور مجلس عمل پر ہے۔جماعت احرار نے ابتداء کی، مجلس عمل نے اس کو عالمگیر بنانے کی کوشش کی اور جماعت اسلامی نوٹ کی امید میں آگے آگے چلنے لگ گئی۔حقیقت یہ ہے کہ ابتدائی ایام کی سستی اور غفلت نے حکومت کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا کہ اگر وہ چاہتی بھی تو ان فسادات سے بچ نہیں سکتی تھی پہلے انہوں نے غفلت برتی پھر انہوں نے اس فساد کو ایک دوسرے کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی اور آخر میں انہوں نے سمجھا کہ اگر علماء کو کچھ بھی کہا گیا تو عوامی لیگ وغیرہ مسلم لیگ کو کچل دیں گی اور طاقت ور ہو جائیں گی۔یہ علماء قائد اعظم کے زمانہ میں بھی موجود تھے مگر انہوں نے ان کو منہ نہیں لگایا۔بار بار عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری اپنی تقریروں میں بیان کرتے رہے ہیں کہ میں نے اپنی داڑھی قائد اعظم کے بُوٹ پر ملی مگر پھر بھی اس کا دل نہ پسیجا۔وہی عطاء اللہ شاہ بخاری اب بھی تھے اور وہی قائد اعظم والی حکومت اب بھی تھی۔صرف قائد اعظم فوت ہو گئے تھے اور ان کے نمائندے کام کر رہے تھے۔آخر کیا وجہ ہے کہ وہ مردِ دلیر نہ ڈرا اور یہ علماء اس کے ڈر کے مارے اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے ر لیکن اس کے اس دنیا سے رخصت ہوتے ہی یہ اسی شخص کے کام کو تباہ کرنے کے لئے آگے نکل آئے جس کے بُوٹ پر یہ داڑھیاں رگڑا کرتے تھے۔در حقیقت یہ جو کچھ کیا گیا