انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 411

انوار العلوم جلد 24 411 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب اس خط سے ظاہر ہے کہ عین ان فسادات کے ایام میں یہ امر ان آدمیوں پر ظاہر ہوا کہ احمدی عقائد غلط ہیں اور جماعت اسلامی کے عقائد درست ہیں اور جماعت اسلامی کے راولپنڈی کے سیکرٹری صاحب نے غیر معمولی طور پر یہ ضرورت بھی محسوس کی کہ امام جماعت احمدیہ کو اطلاع دیں کہ بغیر جبر و اکراہ کے ایام میں اس قدر آدمی جماعت احمدیہ سے بیزار ہو کر اسلامی جماعت کے سیکرٹری کے پاس تو بہ کا اظہار کرتے ہیں۔اس خط سے خوب واضح ہے کہ جبر و اکراہ بالکل استعمال نہیں کیا گیا اور جبر واکراہ کے ساتھ اسلامی جماعت کا کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔اتفاقی طور پر جبر واکر اہ کے دنوں میں بغیر جبر واکراہ کے بارہ آدمیوں پر راتوں رات احمدیت کی غلطی ثابت ہو گئی اور بغیر اس کے کہ جماعت اسلامی کا کوئی بھی ان فسادات سے تعلق ہو وہ لوگ دوڑ کر جماعت اسلامی کے سیکر ٹری کے پاس پہنچے اور ان کو ایک تحریر دے دی۔جماعت احمدیہ کے اوپر صرف یہ الزام ہے کہ بعض موقعوں پر اس نے حملوں کا جواب کیوں دیا حالانکہ جواب دینا تو انسان کو اپنی جان بچانے کے لئے ضروری ہوتا ہے اگر جواب نہ دیں تو لوگوں پر حقیقت روشن کس طرح ہو۔مثلاً اسی کمیشن کے سامنے مولانا مر تضی صاحب میکش نے امام جماعت احمدیہ سے سوال کیا کہ ہم تو آپ کو اس لئے کافر کہتے ہیں کہ آپ کا فر ہیں آپ ہمیں کس لئے کافر کہتے ہیں ؟ ان کی غرض یہ تھی کہ احمدی چونکہ دوسروں کو کافر کہتے ہیں اس لئے لوگوں کے دلوں میں اشتعال آتا ہے لیکن چونکہ ان کے ساتھ کفر کی ایک ایسی تشریح پیش کی گئی جس پر وہ اعتراض نہیں کر سکتے تھے اس لئے ان کو اپنا سوال اس رنگ میں ڈھالنا پڑا کہ ہم تو آپ کو کا فر سمجھ کر کافر کہتے ہیں آپ ہمیں کافر کیوں کہتے ہیں؟ گویا ان کے نزدیک علماء احرار و مجلس عمل و جماعت اسلامی بیشک احمدیوں کو کافر سمجھیں اور کہیں اس سے فساد کا کوئی احتمال نہیں لیکن اگر احمدی جماعت جوابی طور پر بھی انہیں کافر کہے تو اس سے فساد کا احتمال پیدا ہو جاتا ہے۔ان فسادات کے سیاسی ہونے کا ایک اہم ثبوت یہ بھی ہے کہ جماعت احمدیہ