انوارالعلوم (جلد 24) — Page 302
انوار العلوم جلد 24 302 سیر روحانی (7) جب کسی کو جنگ پر بھیجتے تھے تو آپ اُسے نصیحت فرماتے تھے کہ تقویٰ اللہ اختیار کرو اور مسلمانوں کے ساتھ نیک سلوک کرو اور فرماتے تھے اُغْزُوا بِاسْمِ اللهِ وَفِي سَبِيْلِ الله 14 اللہ کا نام لیکر اللہ کی خاطر جنگ کیلئے جاؤ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللهِ 45 جو شخص اللہ کا کفر کرتا ہے اُس سے لڑو۔اس کے یہ معنے نہیں جس طرح بعض علماء غلط طور پر لیتے ہیں کہ تم کا فروں سے لڑو بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے تم سے لڑائی کی ہے اگر وہ مسلمان ہو جائے تو اُس سے لڑائی جائز نہیں۔لڑائی کیلئے تو حکم ہے کہ اذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ یعنی جنگ کے لئے نکلنے کی تب اجازت دی گئی ہے جب تم سے پہلے لڑائی کی جائے۔اس لئے کفر باللہ اس کے بعد جا کر لگے گا۔اگر کسی شخص نے لڑائی شروع كَفَرَ کر دی مگر جب تمہارا لشکر پہنچا تو اس نے اسلام کا اعلان کر دیا تو وہ ظلم ختم ہو گیا اب تم کو اُس سے لڑنے کی اجازت نہیں۔یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ کا فر ہے اور اُس نے لڑائی نہیں کی تو اُس سے جا کر لڑ پڑو۔وَلَا تَغُلُّوا 4 اور قطعی طور پر مالِ غنیمت میں خیانت یا سرقہ سے کام نہ لو۔وَلَا تَغْدِرُوا 17 اور بد عہدی نہ کرو، کسی کو دھو کا مت دو۔اوّل تو مال غنیمت میں کسی قسم کی ناجائز دست اندازی نہ کرو اور پھر جو سزا دویا اُن سے وعدے کرو اُن کو کسی بہانے سے توڑنا نہیں۔انگریزی حکومت سب جگہ اسی طرح پھیلی ہے۔پہلے چھوٹا سا معاہدہ کر لینا کہ چھاؤنی رہے گی اور ایک افسر رہے گا۔پھر کہا کہ ہمارے فلاں سپاہی کو تمہارے آدمیوں نے چھیڑا ہے اس لئے ارد گرد بھی سات آٹھ گاؤں پر ہم اپنا قبضہ رکھیں گے تا تمہارے لوگ ہمارے آدمیوں کو کچھ کہیں نہیں۔پھر اس کے بعد یہ کہہ دیا کہ ہمارے آدمی جو اِرد گر د ر کھے گئے تھے اُنکے ساتھ تمہارے آدمی لڑ پڑے ہیں اس لئے ہم مجبور ہیں کہ دارالخلافہ پر اپنا قبضہ رکھیں تا فسادنہ ہو۔پھر کہہ دیا تم نے فلاں حکم دیدیا ہے اس سے ملک میں بغاوت پیدا ہوتی ہے اور بغاوت کا ہم پر بھی بُرا اثر پڑتا ہے اس لئے آئندہ جو حکم دیا کریں ہم سے پوچھ کر دیا کریں۔۔