انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 303

انوار العلوم جلد 24 303 سیر روحانی (7) 48 وَلَا تُمَتِّلُوا اور مثلہ نہ کرو۔مثلہ کے معنے ہوتے ہیں مرے ہوئے کے ، ناک کان کاٹ ڈالنا۔فرماتا ہے کفار اپنی رسم کے مطابق اگر مسلمان مقتولین کے ناک کان بھی کاٹ دیں تو تم اُنکے مر دوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا کرو۔وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيَداً - 19 اور کسی نا بالغ بچے کو مت مارا کرو۔یعنی صرف جنگی اور سیاسی سپاہی کو مارو جو لڑنے کے قابل نہیں ابھی نابالغ ہے اُسے نہیں مارنا کیو نکہ وہ بالبداہت جنگ میں شامل نہیں ہوا اور اسلامی تعلیم کے مطابق صرف اُسی کے ساتھ لڑائی کی جاسکتی ہے جو لڑائی میں شامل ہوا ہو۔اب اس کے مقابل پر جو کچھ پارٹیشن میں ہو اوہ کیا ہوا، کس طرح سینکڑوں بلکہ ہزاروں بچہ مارا گیا۔یہ ایک انتہاء درجہ کا ظلم تھا جو۔کیا گیا۔اِس طرف کم اور اُدھر زیادہ مگر ہوا دونوں طرف۔مجھے یاد ہے لاہور میں ایک رات کو آوازیں آئیں میں نے اپنے دفتر کا ایک آدمی بلوایا اور کہا جاؤ پتہ کر و معلوم ہوتا ہے کسی پر ظلم ہو رہا ہے۔وہ دوڑ کر گیا اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا کہنے لگا ایک ہندو تھا جسے مسلمانوں نے گھیر لیا تھا اور اُس کو مارنے لگے تھے۔میں نے کہا پھر تم نے اُس کو بچایا کیوں نہیں ؟ اس نے کہا میں آپ کو خبر دینے آیا ہوں میں نے کہا وہ تو اب تک اُسے مار چکے ہونگے جاؤ جلدی۔چنانچہ جب وہ واپس گیا تو اُس نے کہا کہ وہ سڑک پر مر ا ہوا پڑا تھا مگر اُس طرف اِس سے کئی گنا زیادہ ظلم ہوا ہے۔ہم جس زمانہ میں اُدھر تھے اور یہ لڑائیاں ہو رہی تھیں تو ہمیں پتہ لگتا رہتا تھا کہ کس طرح سے مسلمان مارے جارہے ہیں، لڑکے مارے جاتے تھے ، عور تیں ماری جاتی تھیں اور قسم قسم کے مظالم کئے جاتے تھے۔پنڈت نہرو سے ملاقات کا واقعہ چنانچہ جب پارٹیشن ہوئی تو میں جو پہلے اس طرف آیا ہوں تو اسی غرض سے آیا تھا پنڈت نہرو صاحب یہاں آئے ہوئے تھے۔میں نے سمجھا کہ اُس سے جا کر بات کروں کہ یہ کیا ظلم ہو رہا ہے۔سردار شوکت حیات صاحب کے ہاں وہ ٹھہرے تھے میں نے انہیں ملنے کے لئے لکھا تو انہوں نے وقت دے دیا۔میں نے اُن سے کہا ہم قادیان