انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 301

انوار العلوم جلد 24 301 سیر روحانی (7) پیدا ہوتی ہے۔باوجود اس کے کہ یورپ انفرادی لحاظ سے انصاف اور آزادی میں ہمارے ملکوں سے بہت بڑھا ہوا ہے۔انگلستان میں جو سلوک ایک چور سے کیا جاتا ہے ، جو نیک سلوک ایک بد معاش سے کیا جاتا ہے، جو نیک سلوک ایک ڈاکو سے کیا جاتا ہے ، ہم ایک راستباز اور نیک آدمی سے بھی حکومت میں نہیں کرتے۔غرض انفرادی طور پر وہ لوگ امن اور چین دینے میں بہت بڑھے ہوئے ہیں لیکن جب حکومت کا معاملہ آتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں یہ تو ڈپلومیسی تھی اس سے جھوٹ کا کیا تعلق ہے یہ تو اپنے ملک کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔اُنکی تاریخوں میں صفحے کے صفحے ایسے نکلیں گے جن میں یہ ذکر ہو گا کہ میں نے فلاں وقت یہ جھوٹ بولا ، میں نے فلاں وقت یہ جھوٹ بولا اور اس پر فخر کریں گے۔غرض وہ سمجھتے ہیں کہ اخلاق صرف افراد کیلئے ہیں حکومت کیلئے نہیں لیکن قرآن کہتا ہے کہ قوموں کے لئے بھی اخلاق ہیں، حکومت کیلئے بھی اخلاق ہیں اور افراد کیلئے بھی اخلاق ہیں۔اگر افراد چاہتے ہیں کہ اُنکے اخلاق درست رہیں، اگر قوم چاہتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں مقبول ہو تو اُسے قومی اور سیاسی طور پر بھی سچ بولنا پڑے گا۔اُسے قومی اور سیاسی طور پر بھی انصاف کرنا پڑے گا، اُسے قومی اور سیاسی طور پر بھی قوموں کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا پڑے گا۔اور اگر افراد چاہتے ہیں کہ اُن کے ملک محفوظ رہیں اور اُن کی عزت قائم رہے تو انہیں انفرادی حقوق کے علاوہ قومی طور پر بھی حقوق ادا کرنے پڑیں گے۔تو یہ نمایاں فرق ہے اسلام میں اور دوسرے مذاہب میں۔دوسرے مذاہب میں یہ بات نہیں۔ابھی حال میں ایک سیاسی لیڈر نے کسی جگہ پر بیان دیا ہے کہ یہ عجیب بات ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ سیاسی لیڈروں کو جھوٹ بولنے کا حق ہے اور جب یہ کہا جاتا ہے تو علماء کو بھی یہ حق کیوں نہیں دیا جاتا۔اسلام کے لڑائیوں کے بارہ میں تفصیلی احکام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تعلیم کی جو تشریح فرمائی ہے وہ اُن احکام سے ظاہر ہے جو آپ اُسوقت دیتے تھے جب آپ کسی کو کمانڈر بنا کر جنگ پر بھجواتے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم