انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 62

انوار العلوم جلد 24 62 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی وہ ان کے کانوں میں ڈالیں۔ان لڑکوں کا خرچ زمانہ تعلیم سے آخر تک میں ادا کروں گا اگر اس عرصہ تعلیم میں سنسکرت پڑھ لینے اور ویدوں کا مطالعہ کر لینے کے بعد وہ لڑکے ہندو مذہب کی فوقیت اور اسلام کی کمزوری کے قائل ہو جائیں گے تو چار مبلغ ہندوؤں کو میرے خرچ سے تیار شدہ مل جائیں گے اور اگر وہ واپس میرے پاس آجائیں گے تو آئندہ مجھ سے کوئی سوال کرے گا تو میں ایسے لوگوں کو پیش کر سکوں گا جو ہندو لٹریچر خود پڑھ سکیں۔اسی طرح چار لڑکے خود منتخب کر کے وہ پروفیسر میرے پاس بھیج دیں میں انہیں عربی زبان اور قرآن پڑھاؤں گا اور اسلام کی خوبیاں اُن کو بتاؤں گا اور ج دیر وہ یہاں تعلیم حاصل کریں گے ان کی تعلیم کا خرچ میں دوں گا اور کبھی ان سے یہ نہیں کہوں گا کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔جب وہ تعلیم سے فارغ ہو جائیں اور خود محسوس کریں کہ اسلام سچا ہے تو بے شک اپنی مرضی سے مسلمان ہو جائیں اور اگر ان پر اسلام کی صداقت واضح نہ ہو تو میرے خرچ پر قرآن سے واقف ہو کر وہ ہندوؤں کے مبلغ بن جائیں گے اور اسلام کے خلاف محاذ قائم کریں گے۔غرض دونوں طرف کا خرچ میں دوں گا اور کوئی بوجھ ہندو قوم پر نہیں پڑے گا۔امام جماعت احمدیہ کی اس بات کو سُن کر وہ لڑکے کچھ جھجک سے گئے اور اُنہوں نے سوال کرنے بند کر دیئے اور تھوڑی دیر کے بعد اُٹھ کر چلے گئے۔کوئی مہینہ دو مہینے گزرے تھے کہ ایک ہندو نوجوان قادیان میں آیا اور امام جماعت احمدیہ سے مل کر اُس نے کہا کہ آپ کو یاد ہے کہ کچھ لڑکے اس قسم کے آپ کے پاس آئے تھے اور آپ نے ان سے یہ یہ باتیں کی تھیں۔آپ نے کہا ہاں مجھے خوب یاد ہے۔اس نے کہا میں اُن لڑکوں میں سے ایک ہوں۔ہمارے اساتذہ نے اس بات کی پرواہ نہیں کی اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ ڈر گئے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات معقول ہے۔میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ مجھے اپنے خرچ پر قرآن اور عربی پڑھائیں مگر کبھی مجھے مسلمان ہونے کے لئے نہ کہیں۔تعلیم کے بعد میں آپ فیصلہ کر لوں گا کہ مجھے مسلمان ہونا چاہئے یا نہیں۔آپ نے اس شرط کو منظور کیا اور اس نوجوان کو اسلام کی تعلیم دلوائی۔وہ گورو کل کانگڑی کا جو ہندوستان کا بہترین ہندو سنسکرت کالج ہے