انوارالعلوم (جلد 24) — Page 63
انوار العلوم جلد 24 63 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب طالب علم تھا۔کچھ عرصہ کے بعد جب اُس نے قرآن کریم کو خود اپنی آنکھوں سے پڑھا اور خود اس کا مطلب سمجھنے کے قابل ہوا تو ایک دن خود آکر خواہش کی کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں اور مسلمان ہو گیا۔اس کے بعد اس نے مولوی فاضل پاس کیا اور اب وہ اسلام کا ایک مبلغ ہے اور اسلام کی تائید میں کتابیں لکھتا ہے۔مولانا! یہ سچ کی طاقت ہوتی ہے۔راستبازوں کے یہ حوصلے ہوتے ہیں جس کا نمونه امام جماعت احمدیہ نے دکھایا۔آپ اگر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ آپ سمجھتے ہیں وہ سچ ہے تو دوسرے مسلمان فرقوں کو اس سے واقف کیجئے اور احمدیوں میں تبلیغ کیجئے۔پھر اگر دوسرے مسلمان آپ کی باتوں کو سچا سمجھیں گے تو وہ اپنے فرقہ کو چھوڑ کر آپ میں آملیں گے۔یہی طریق ہے جو سب نبیوں نے اختیار کیا اور اسی طریق سے دُنیا میں سچائی قائم ہوتی رہی ہے۔ڈنڈوں اور تلواروں نے نہ کبھی پہلے سچ کی مدد کی ہے اور نہ آئندہ کر سکیں گے۔مولانا! آپ نے تو اپنے اس بیان میں حقیقت کا بھانڈا ہی پھوڑ دیا۔آپ کے اس بیان کا مطلب تو یہ ہے کہ خدا کے بارہ میں کوئی اختلاف کرے پروا نہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کوئی اختلاف کرے پروا نہیں، قرآن کے بارہ میں کوئی اختلاف کرے پروا نہیں۔ایسے مسلمان فرقے بے شک موجود ہیں جو ان باتوں میں ہم سے احمدیوں کی طرح اختلاف کرتے ہیں۔پھر معمولی اختلاف نہیں ”بنیادی حقیقتوں“ میں اختلاف کرتے ہیں اور معاشرتی تعلقات ہم سے منقطع کر رہے ہیں لیکن ہم کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، ہم کو قرآن سے کیا، ہم کو اسلام سے کیا۔وہ خدا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف کرتے ہیں۔ہماری جماعت کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے کیونکہ وہ تبلیغ نہیں کرتے۔پس جب مودودی جماعت ان کے فتنہ سے محفوظ ہے تو خدا اور اس کا رسول جائیں اور اپنی حفاظت آپ کریں ہم کو تو احمدیوں سے غرض ہے کہ وہ مودودی اور دیوبندی بھیڑوں میں سے کچھ نہ کچھ بھیڑیں اُٹھا کر ہر سال لے جاتے ہیں۔