انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 61

انوار العلوم جلد 24 61 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی جتھہ آپ کے پاس ہے، طاقت آپ کے پاس ہے، علماء آپ کے پاس ہیں پھر بھی آپ لرزہ براندام ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ احمدی ہم میں تبلیغ کریں گے تو کیا ہو جائے گا۔اگر آپ میں جرات ہوتی تو آپ کہتے آئیں اور احمدی ہمیں تبلیغ کریں۔کبھی آپ نے وہ واقعہ نہیں سنا جو موجودہ امام جماعت احمدیہ کے ساتھ قادیان میں پیش آیا تھا۔ایک دفعہ ہر دوار سے آریوں کے مذہبی کالج کے کچھ پروفیسر طالب علموں کے ساتھ قادیان آئے اور اُنہوں نے اسلام کے خلاف تقریریں کرنی شروع کر دیں۔اُنہوں نے اپنے زعم میں امام جماعت احمدیہ کو شرمندہ کرنے کے لئے اپنے کچھ شاگردوں کو سوالات سکھا کر ان سے ملنے کے لئے بھیجا۔اُنہوں نے آکر درخواست کی کہ ہم امام جماعت احمدیہ سے ملنا چاہتے ہیں۔امام جماعت احمدیہ نے مسجد میں ان کو بلوالیا اور ان سے ملاقات کی۔لڑکوں نے سکھلائے ہوئے سوالات پیش کرنے شروع کر دیئے۔امام جماعت احمدیہ نے جواب دیا کہ تم دس گیارہ لڑکے ہو ہر ایک کے دل میں نہ معلوم کتنے کتنے سوالات اسلام کے خلاف بھرے ہوئے ہوں گے۔آخر میں محدود وقت دے سکتا ہوں۔تمہارا اصرار یہ ہے کہ میرے ہی منہ سے جواب سنو کسی دوسرے احمدی عالم کے منہ سے جواب سننے کے لئے تم تیار نہیں اور میں اول تو دنوں اور ہفتوں بیٹھ کر تمہارے ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتا۔دوسرے میں جو بھی جواب دوں گا اگر وہ حقیقی جواب ہو گا اور قرآن کریم میں سے ہو گا تو تمہارے دل میں شبہ ہو گا کہ معلوم نہیں قرآن میں یہ بات لکھی ہے یا نہیں لکھی کیونکہ تم عربی نہیں جانتے اور اگر میں الزامی جواب دوں گا اور وہ ویدوں سے ہو گا یا دوسری ہندو کتب سے ہو گا تو تم فوراً کہو گے کہ آپ تو سنسکرت جانتے ہی نہیں، آپ کیا جانتے ہیں کہ ہماری کتابوں میں کیا لکھا ہے ؟ پس کوئی ایسا ذریعہ ہمارے درمیان مشترک نہیں جس کے ساتھ اس جھگڑے کا تصفیہ کیا جاسکے۔اس لئے میں تمہیں ایک آسان راہ بتاتا ہوں۔تم اپنے اساتذہ سے جاکر کہو کہ وہ چار لڑکے جو میں انہیں دوں انہیں اپنے ساتھ لے جائیں اور دو تین سال رکھ کر انہیں وید پڑھائیں اور جو اعتراضات ان کے دل میں قرآن کے متعلق ہیں