انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 188

انوار العلوم جلد 24 188 مفید سبق حاصل ہوتے ہیں یا وہ وعظ میں استعمال ہو سکتی ہے یا تصنیف میں ہو سکتی ہے تو اُس کے حاشیہ پر لکھتے تھے ”ف ف“ جس کے معنے ہوتے تھے یہ فائدہ بخش چیز ہے نفع رساں بات ہے۔اور جب کوئی ایسی بات آتی تھی جس کو وہ سمجھتے تھے غلط ہے اور اس سے اسلام پر کوئی حملہ ہوتا ہے یا قرآن پر حملہ ہوتا ہے یا ہمارے تمدن پر حملہ ہوتا ہے یا ہماری حکومت پر حملہ ہوتا ہے یا ہماری تاریخ پر حملہ ہوتا ہے یا ہمارے اخلاق پر ہوتا ہے تو اُس کے حاشیہ پر لکھتے تھے ”قف “ یعنی یہاں ٹھہر جا یہ گندی بات ہے۔“قف“ کے معنے ہیں ٹھہر ، یہ خراب ہے۔اور جہاں کوئی ایسی بات ہوتی تھی جس کو وہ سمجھتے تھے کہ ٹھیکہ نہیں پر میرے پاس ابھی جواب نہیں اس کا۔میں اس کو غلط نہیں کہہ سکتا تو اس کے اوپر ڈال دیتے تھے۔تو یہ تین چیزیں اُن کو علم میں راہنمائی کرتی تھیں۔وہ کتاب جب پڑھتے تھے تو اس کتاب پر حاشیہ لکھا جاتا تھا۔کتاب کو پڑھ کے پھر دوبارہ دیکھتے تھے تو ”ف“ والی الگ نکال لیتے تھے ، ”قف “ والی الگ نکال لیتے تھے ؟“ (سوال) والی الگ نکال لیتے تھے۔”ف“ والیوں کو اپنے وقت پر استعمال کر لیتے تھے ، ”قف “والیوں کا جواب اپنے شاگردوں کو یا اپنے دوستوں کو بتاتے تھے کہ یہ غلط باتیں اس میں لکھی ہوئی ہیں۔اور ” ؟ ( سوالیہ ) والوں کے لئے اور کتابیں پڑھتے تھے تاکہ تحقیقات ہو جائے یہ مسئلہ اصل کیا ہے۔تو اس رنگ میں اُن کے علم بڑھتے رہتے تھے۔یہ تین چیزیں انہوں نے بنائی ہوئی تھیں ”ف_قف۔؟“(سوال)۔”ف“ کے معنے ہیں مفید چیزیں۔”قف “ کے معنے ہیں غلط چیزیں اور ”؟“ (سوال) کے معنے ہیں تحقیقات اور کرو۔اس کے متعلق مزید روشنی کی ضرورت ہے۔جن لوگوں کو مطالعہ کی عادت ہے وہ بعض دفعہ بڑی عجیب چیز نکال لیتے ہیں۔تین دن ہی کا واقعہ ہے کہ المصلح اخبار آیا۔یوں تو اخبار کو میرے لئے پڑھنا عام طور پر دستور نہیں ہے کیونکہ میں نظر مارتا ہوں اکثر مضمون ایسے ہوتے ہیں کہ مجھے پڑھنے کی ضرورت نہیں معلوم ہوتی لیکن ایک مضمون تھا میں نے اس کو پڑھا اور جب میں نے پڑھا تو میری حالت ایسی ہو گئی جیسے خواب کی ہوتی ہے یعنی اُس کے اندر ایک ایسا مضمون تھا کہ