انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 189

انوار العلوم جلد 24 189 اگر وہ واقعہ صحیح ہے میں اس کی تحقیقات کرنا چاہتا ہوں۔اگر وہ واقعہ صحیح ہے تو احمدیت کی تاریخ میں گویا وہ ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔اتنا اہم حوالہ اس میں درج تھا اور لکھنے والا کوئی خاص ماہر آدمی نہیں تھا ایک کلرک ہے لائل پور کا شیخ عبد القادر ، اس کا تھا۔وہ پہلے بھی اچھے مضمون لکھا کرتا ہے۔اُس کو شوق ہے مضمون کا۔بائیبل کے متعلق بھی اُس کی تحقیقاتیں بعض دفعہ اچھی اچھی ہوتی ہیں۔لیکن خیر وہ معمولی باتیں تھیں لیکن یہ تو ایسا حوالہ اُس نے نکالا ہے، خدا تعالیٰ نے اُس کو دے دیا کہ حیرت ہو گئی۔کیونکہ ہماری نظروں سے یہ بات کبھی نہیں گزری تھی اُس نے بالکل ہی آکے ہماری بحث کے زاویے ہی بدل ڈالے ہیں۔دیکھنا صرف یہ ہے کہ اُس نے کہیں درج کرنے میں غلطی تو نہیں کر دی۔تو اب ایک کلرک آدمی اگر اس قسم کے مطالعہ سے یہ باتیں نکال سکتا ہے تو ایک گریجویٹ، ایک مولوی فاضل، ایک وکیل یا ڈاکٹر اگر اس قسم کی اپنے اپنے شعبہ میں باتیں کریں تو کیوں نہیں نکال سکتے۔یا کسی قدر ہمارے یہ ڈاکٹر شاہ نواز سامنے بیٹھے ہیں ان کو بھی شوق ہے وہ نکالتے ہیں علم النفس کے متعلق لیکن کوئی DETAILED EFFORT نہیں ہوتی ان کی۔کبھی کبھی ان کو جوش آیا کرتا ہے۔تو یہ حوالہ بتاتا ہے کہ در حقیقت ہمارے لئے اور مصالحہ ابھی پڑا ہے اور حیرت انگیز طور پر ہماری کتابوں میں چیزیں موجود ہیں جو احمدیت کی تائید میں حاصل ہو سکتی ہیں۔میں نے لٹریچر کی اشاعت لٹریچر کی اشاعت کیلئے دو کمپنیوں کا قیام کے لئے دو کمپنیاں بنوائی تھیں ایک کا نام ہے دی اورینٹل اینڈ ریلیجس پبلشنگ کارپوریشن “اور ایک کا نام ہے ”الشركة الاسلامیہ“۔الشركة الاسلامیہ زیادہ تر اردو کی کتابوں کے لئے ہے۔اور یہ اورینٹل اینڈ ریلیجس پبلشنگ کارپوریشن جو ہے یہ یوروپین زبانوں کی اشاعت یا عربی زبان کی اشاعت کے لئے ہے۔پیچھے میں نے اعلان کیا تھا کہ ان میں کوئی دوست حصہ نہ خریدیں۔اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے پاس بعض احمدیوں کی شکایت آئی تھی کہ ہم نے روپے دیئے ہیں تو ہم کو رسید نہیں ملتی۔دوسرے یہ شکایت آئی تھی کہ انہوں نے