انوارالعلوم (جلد 23) — Page 81
انوار العلوم جلد 23 81 حضرت اماں جان کے وجود گرامی کی اہمیت، تعمیر ربوہ اور لیا مطلب تھا۔یہ کوئی نئی بات نہیں۔سب سابق مامورین ایسا ہی کر چکے ہیں۔تو ظاہر ہے کہ ان الفاظ میں خصوصیت کے ساتھ ایک بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ کی بیوی آپ کی شریک حال بننے والی تھی اور چونکہ یہ ایک خصوصیت تھی جس میں ب سابق مامور شامل نہ تھے سوائے چند کے جن میں سے نمایاں مثال حضرت آدم کی تھی۔پس يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَہ کے الفاظ سے آنے والے موعود کی بیوی کی اہمیت ظاہر کی گئی تھی۔پھر ہم اس زمانہ سے نیچے آتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُمتِ محمدیہ کے بعض اور بزرگوں نے بھی اپنی پیشگوئیوں میں یہ بات بیان کی ہے۔حضرت اناں جان دہلی کی رہنے والی تھیں۔آپ کے بزرگوں میں سے ایک بزرگ خواجہ محمد ناصر تھے۔آپ کے والد بادشاہ وقت کے خاص درباریوں میں سے تھے اور نواب کا خطاب رکھتے تھے اور خواجہ محمد ناصر بھی فوجی افسر تھے۔آپ کے وقت کا بادشاہ محمد شاہ تھا۔ایک دن الہی منشاء معلوم کر کے آپ نے محمد شاہ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔آپ کو اس نے بہت سمجھایا کہ استعفی واپس لے لو۔آپ کا مستقبل بہت روشن ہے لیکن آپ نے کہا میری خدا تعالیٰ سے لو لگ گئی ہے۔اب میں یہ خدمت سر انجام نہیں دے سکتا۔چنانچہ آپ گھر آگئے اور عبادت میں لگ گئے۔ایک دن آپ دروازے بند کر کے عبادت کر رہے تھے اور حجرہ میں بیٹھے بیٹھے کئی دن اور کئی راتیں گزر گئیں تھیں کہ آپ کو کشف میں امام حسن علیہ السلام نظر آئے۔حضرت امام حسن نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔مجھے میرے نانا نے بھیجا ہے کہ میں تم کو آپ کی طرف سے روحانیت کی خلعت دے آؤں۔آپ نے فرمایا کہ خواجہ محمد ناصر سے کہہ دینا کہ یہ تحفہ جو تمہیں ملتا ہے ایسا ہے جس میں تجھے مخصوص کیا گیا ہے اس لئے تم اپنے طریقہ کو طریقہ محمد یہ کہو اور فرمایا: وو یہ ایک خاص نعمت تھی جو خانوادہ نبوت نے تیرے واسطے مخصوص رکھی تھی اس کی ابتدا تجھ پر ہوئی ہے اور انجام اس کا مہدی موعود پر ہو گا۔23 گویا خواجہ محمد ناصر جو خواجہ میر درد کے والد اور حضرت اتاں جان کے پڑ نانا تھے کو