انوارالعلوم (جلد 23) — Page 70
انوار العلوم جلد 23 70 نئی قیود اور اصلاحات کو خوشی سے برداشت کرنا چاہئے کرتا ہے۔مگر نہ انہیں رائفل لاتے وقت وہ نظر آتا ہے ، نہ رائفل اٹھاتے وقت نظر آتا ہے ، نہ نشانہ باندھتے وقت نظر آتا ہے ، نہ ارد گرد بیٹھنے والوں کو پتہ لگتا ہے کہ فلاں شخص رائفل چلانے لگا ہے حالانکہ رائفل ایسی چیز ہے کہ ایک ہاتھ مارا جائے تو وہ دُور جا پڑے اور اس کا نشانہ آسمان کی طرف چلا جائے۔پس رائفل کا سوال نہیں سوال پستول کا ہے مگر اس میں بھی تب کامیابی ہوتی ہے جب کوئی پچاس ساٹھ فٹ سے نشانہ لگائے اور ایک منٹ تو نشانہ لگانے میں ہی صرف ہو جاتا ہے۔اگر پاس کے لوگ ذرا بھی ہوشیار ہوں تو وہ صرف ایک کہنی کی حرکت سے اس کے نشانہ کو ختم کر سکتے ہیں بلکہ کہنی تو الگ رہی سانس کی تیزی سے بھی نشانہ بگڑ جاتا ہے۔اگر کسی کو پتہ لگے کہ کوئی شخص پستول چلانے لگا ہے اور وہ ذرا اپنی کہنی اسے مار دے تو اتنی معمولی سی بات سے ہی اس کا نشانہ خطا ہو جاتا ہے۔پس یہ کھیل میں پسند نہیں کرتا اس کی فوراً اصلاح کی جائے۔جلسہ کے وقت میں تو اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔راتوں رات اس کی اصلاح ہو جانی چاہئے ورنہ کل میں تقریر کے لئے نہیں آؤں گا اور دوستوں کو خلافت کے لئے جو مکانات بنائے گئے ہیں ان میں ملاقات کا موقع دوں گا اور کہہ دوں گا کہ مجھ سے مصافحہ کر لو اور چلے جاؤ۔ایسے ماحول میں تقریر کرنے کے لئے میں نہیں آسکتا۔ہماری جماعت ایک مخلصین کی جماعت ہے اور دُور دُور سے لوگ جلسہ سالانہ کے لئے آتے ہیں۔ان کو مجرم کے طور پر بٹھا دینا اور ڈربہ کے طور پر بند کر دینا ایسی چیز ہے جسے میری غیرت برداشت نہیں کرتی۔وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور میں اُن سے محبت کرتا ہوں۔پھر ہم میں اتنی دُوری کیوں ہو ؟ دوسری طرف پہرہ کا انتظام بہت ناقص ہے۔پہلے بہت سے آدمی ہوا کرتے تھے مگر اس دفعہ اتنے آدمی نظر نہیں آتے۔جلسہ گاہ کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اگر لوگوں کے لئے سٹیج سے پندرہ میں فٹ پرے جگہ بنادی جائے تو غالبا کافی ہو گا۔بے شک نگرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دیکھتے رہیں کہ کوئی شریر آدمی تو اندر نہیں آگیا۔مگر یہ بھی نامناسب امر ہے کہ کسی ایک شریر کی وجہ سے سارے محبوں کو دُور بٹھا دیا جائے۔