انوارالعلوم (جلد 23) — Page 69
انوار العلوم جلد 23 69 نئی قیود اور اصلاحات کو خوشی سے برداشت کرنا چاہئے اصلاح نہیں کی گئی۔پس میں منتظمین سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک اس جلسہ گاہ کی اصلاح نہ کی گئی میں کل تقریر نہیں کروں گا۔اگلی صف آگے آنی چاہئے اور پہلوؤں میں بھی لوگوں کے بیٹھنے کا انتظام ہونا چاہئے۔اب تو ایسی شکل بنی ہوئی ہے جیسے بادشاہ اعلان کرنے کے لئے آتے ہیں تو لوگوں کو بٹھا دیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ احتیاط ضروری چیز ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی بے احتیاطی کی وجہ سے شہید ہوئے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسی بے احتیاطی کی وجہ سے شہید ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ اسی بے احتیاطی کی وجہ سے شہید ہوئے۔مصر میں ایک دفعہ مسلمان نماز پڑھ رہے تھے کہ ان پر اچانک حملہ کر دیا گیا۔شاید انہوں نے پہرہ مقرر نہیں کیا تھا جیسے آجکل کے مولوی ہمارے پہرہ پر اعتراض کرتے ہیں اسی طرح اس زمانہ میں لوگ اعتراض کرتے ہوں گے۔چونکہ نیا ملک فتح ہوا تھا اس لئے انہوں نے اس خیال سے کہ لوگ اعتراض نہ کریں کہ نماز کے وقت بھی یہ پہرہ رکھتے ہیں اپنے لئے پہرہ مقرر نہ کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن نے نماز کی حالت میں کئی صفیں قتل کر دیں اور پھر کہیں جاکر اگلی صف والوں کو پتہ لگا کہ دشمن نے حملہ کر دیا ہے۔بیسیوں صحابہ مارے گئے اور سینکڑوں دوسرے مسلمان شہید ہوئے۔پس پہرہ ایک ضروری چیز ہے لیکن اس کی ایسی شکل بنا دینا کہ پہرہ ہی رہ جائے اور کام ختم ہو جائے یہ بھی ایک لغو بات ہے۔آخر ہر ایک نے مرنا ہے پس ایسی احتیاط جو خلافت کو بادشاہت کا رنگ دے دے یا تنظیم کو غیر معمولی شان و شوکت والی چیز بنادے یہ نہ تنظیم کہلا سکتی ہے اور نہ اسلامی نقطہ نگاہ سے یہ کوئی پسندیدہ امر ہے۔اصل حفاظت خدا تعالیٰ کرتا ہے بندے نہیں کرتے اور یہ چیز جو آج نظر آرہی ہے یہ احتیاط سے بالا ہو گئی ہے۔لوگ اتنی دور بیٹھے ہوئے ہیں کہ وہ تو شاید مجھے دیکھ رہے ہوں لیکن میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے مجھے شاذ و نادر ہی کسی کی شکل نظر آرہی ہے۔پس ان کو بھی قریب آنے کا موقع دینا چاہئے۔باقی نگرانوں کا کام ہوتا ہے کہ وہ ہوشیاری سے کام لیں۔بھلا ایسے احمقوں نے حفاظت کیا کرنی ہے جن کے سامنے ایک شخص رائفل لے کر آجاتا ہے ، اسے اُٹھاتا ہے ، نشانہ باندھتا ہے اور فائر کرنے کی کوشش