انوارالعلوم (جلد 23) — Page 371
انوار العلوم جلد 23 371 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کتے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا“۔311 اسی طرح انہوں نے یہ بھی فتوے دیئے کہ کسی مسلمان کے لئے احمدیوں کو " لڑکیاں دینا جائز نہیں۔چنانچہ شرعی فیصلہ لکھا گیا کہ :- ”جو شخص ثابت ہو کہ واقعی وہ قادیانی کا مرید ہے۔اُس سے رشتہ مناکحت کار کھنا ناجائز ہے“۔312 بلکہ اس سے بڑھ کر یہ فتویٰ دیا گیا کہ :- ”جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہیں وہ بھی کافر ہیں 313 اور اُن کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے اُن کی عورتوں سے نکاح کر لے۔گویا احمدیوں کی عورتوں سے جبر انکاح کر لینا بھی علماء کے نزدیک عین اسلام تھا۔اسی طرح یہ فتویٰ دیا گیا کہ :-۔جس نے اُس کی تابعداری کی وہ بھی کافر و مرتد ہے اور شرعاً مرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اُس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد کہ پید اہوتے ہیں وہ ولد الزنا ہوں گے “ 314 احمدیوں کی طرف سے محض جوابی فتویٰ ان فتووں سے ظاہر ہے کہ نماز پیچھے نہ پڑھنے اور نماز جنازہ نہ پڑھنے کے فتوے بھی پہلے انہیں لوگوں نے دیئے۔ہم نے کئی سال کے صبر کے بعد یہ فتوے دیئے ہیں۔باقی یہ ظاہر بات ہے کہ انسان نماز میں جس کو امام بناتا ہے اُس کے تقویٰ کی بناء پر ہی بناتا ہے۔جب ہم بانی سلسلہ احمدیہ کو خدا کا بھیجا ہوا مانتے ہیں تو اُن کو کافر قرار دینے اور رڈ کرنے والوں کو متقی کیس طرح سمجھ سکتے ہیں۔لڑکیاں دینے سے انسان اس لئے رُکتا ہے کہ تمدن اور خیالات میں جب فرق ہوتا ہے تو ایسے معاملات میں بعض دفعہ سختی سے کام لیا جاتا ہے ورنہ یہ نہیں کہ شرعی طور پر دوسرے آدمی کو پلید سمجھا جاتا ہے۔اگر نجاست کا سوال ہوتا تو پھر اہل کتاب کی لڑکیاں لینے کی کیوں اجازت دی جاتی۔