انوارالعلوم (جلد 23) — Page 370
انوار العلوم جلد 23 ہے 304 " 370 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ مولوی محمد کفایت اللہ صاحب شاہجہانپوری نے فتویٰ دیا کہ :- ان کے کافر ہونے میں شک و شبہ نہیں اور ان کی بیعت وو حرام ہے اور امامت ہر گز جائز نہیں“۔305 جنازے کے متعلق ان حضرات کے فتوے یہ ہیں مولوی نذیرحسین نے فتویٰ دیا کہ :- صاحب دہلوی ایسے دجال، کذاب سے احتر از اختیار کریں۔۔۔۔۔نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں 306 " مولوی عبد الصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا کہ :- اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے “۔307 قاضی عبید اللہ بن صبغۃ اللہ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا کہ :- " جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر و مرتد اور مرتد بغیر توبہ کے مر گیا تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا“۔308 مفتی محمد عبد اللہ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ:- جس نے دیدہ و دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اُس کو اعلانیہ تو بہ کرنی چاہئے اور مناسب ہے کہ وہ اپنا تجدید نکاح کرے“ 309 پھر اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں بھی دفن نہ ہونے دیا جائے۔چنانچہ مولوی عبد الصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا کہ ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ کیا جائے۔تا کہ :- اہل قبور اس سے ایذاء نہ پاویں“۔310 قاضی عبید اللہ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا کہ ان کو :- ” مقابر اہل اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل و کفن کے