انوارالعلوم (جلد 23) — Page 68
انوار العلوم جلد 23 68 نئی قیود اور اصلاحات کو خوشی سے برداشت کرنا چاہئے کھانے کے متعلق شکایت کی۔میں نے اس شکایت اور بعض دوسری شکایتوں کے لئے ایک کمیٹی بنادی کہ وہ نگرانی کرے اور کارکن مہمانوں کی ہر ضرورت کو پورا کر دیا کریں۔اس کمیٹی کی طرف سے مجھے رپورٹ آئی کہ انتظام ہو گیا ہے لیکن پھر دوبا دوبارہ اسی دوست کی طرف سے شکایت آئی کہ ابھی تک انتظام نہیں ہوا۔اس پر پھر توجہ دلائی گئی تو انہوں نے پھر رپورٹ کی کہ انتظام ہو گیا ہے۔مگر ابھی میں تقریر کے لئے آرہا تھا تو پھر ان کی طرف سے شکایت آئی کہ کوئی بھی انتظام نہیں ہوا۔اسی طرح جلسہ گاہ کے متعلق خود میں نے اس نقشہ کو دیکھ کر کہا کہ یہ مجھے پسند نہیں۔یہ احتیاط سے گزر کر غیر اسلامی طریق کا جلسہ گاہ بن گیا ہے اور اسے میں پسند نہیں کرتا۔اسلام ہمیں بے شک احتیاط کا حکم دیتا ہے۔قرآن کریم میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خُذُوا حِذْرَكُمْ ا لیکن موجودہ جلسہ گاہ کی جو شکل ہے یہ تو ایسی ہی ہے جیسے بادشاہ اعلانوں کے لئے آتے ہیں تو لو گوں کو دُور دُور بٹھا دیا جاتا ہے۔اتنا لمبا فاصلہ میرے نزدیک ہر گز اس حفاظت کے لئے ضروری نہیں جس حفاظت کا خدا تعالیٰ ہم سے تقاضا کرتا ہے۔پہلوؤں کے متعلق میں نے کہا تھا کہ انہیں تنگ کرو اور یہاں لوگوں کو بیٹھنے کا موقع دو۔اسی طرح سامنے والے حصہ کے متعلق میں نے کہا تھا کہ اسے بھی تنگ کرو۔جیسا کہ آپ لوگوں کو یاد ہو گا گزشتہ سال بھی بعض احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی تھیں لیکن اس وقت چاروں طرف لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔اچانک حملہ جس کی آجکل زیادہ احتیاط کی جاتی ہے پستول کا حملہ ہوتا ہے اور پستول کا حملہ ایسی چیز ہے کہ ایسے ہنگامہ میں اگر کوئی شخص فائر کرنا چاہے اور اس کے پاس بیٹھنے والے ذرا بھی ہوشیار ہوں تو وہ اس کے حملہ کو فوراً بے کار کر سکتے ہیں۔پستول کا حملہ پچاس فٹ سے زیادہ فاصلے سے نہیں ہو سکتا۔إِلَّا مَا شَاء اللہ۔لیکن ایساتو کبھی کبھی ہوتا ہے اور عزرائیل لوگوں کی جانیں نکالنے کے لئے ہر روز آتا ہے۔پس جان نکالنا کوئی ایسی غیر معمولی چیز نہیں کہ اس کے لئے غیر معمولی احتیاط کی جائے۔اب جلسہ گاہ میں بیٹھنے والے اتنے دُور دُور بیٹھے ہیں کہ ان کا اس قدر ڈور بیٹھنا طبیعت پر سخت گراں گزرتا ہے اور زیادہ تو افسوس یہ ہے کہ باوجود میرے کہنے کے