انوارالعلوم (جلد 23) — Page 67
انوار العلوم جلد 23 67 نئی قیود اور اصلاحات کو خوشی سے برداشت کرنا چاہئے خود تجربہ ہے کہ ایک ایک احمدی بنانے میں کتنے مہینے لگ جاتے ہیں۔پس ایک احمدی کا اپنی جان بچانا کوئی معمولی بات نہیں۔کیونکہ وہ آسانی سے حاصل نہیں ہو تا بلکہ بڑی قربانی سے حاصل ہوتا ہے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس دفعہ جلسہ سالانہ میں بعض قیود بڑھائی گئی ہیں کیونکہ اخراجات کے متعلق ہمارا اندازہ تھا کہ جلسہ سالانہ پر خرچ زیادہ ہوتا ہے۔پس میں نے منتظمین کو تاکید کی کہ چونکہ قحط کا موسم ہے اس لئے کھانے کو ضائع ہونے سے بچاؤ۔ایسا نہ ہو کہ اخراجات اتنے زیادہ ہو جائیں کہ سلسلہ ان کو برداشت نہ کر سکے۔بڑھنے والی جماعتوں کے متعلق ہمیشہ ترقی اور اصلاح کا خیال زیادہ رکھا جاتا ہے لیکن اس خیال میں بعض غلطیاں بھی ہوئیں۔چونکہ نیا تجربہ ہے اس لئے دوستوں کو غلطیوں کی اصلاح کی تو کوشش کرنی چاہئے لیکن ان غلطیوں پر چڑنا نہیں چاہئے ورنہ جماعت کی تنظیم اور اس کی ترقی نہیں ہو سکتی۔ترقی ہمیشہ اسی طرح ہوتی ہے کہ اصلاحات جاری کی جائیں اور پھر غلطیاں دیکھی جائیں اور ان غلطیوں کی اصلاح کر کے آئندہ کے لئے کوئی معین اور صحیح قدم اُٹھایا جائے۔اگر ایسانہ کیا جائے تو لوگوں کے ڈر کے مارے کوئی نیا قدم نہیں اُٹھایا جاسکتا اور نظام کی مضبوطی کے لئے کوئی نیا طریق اختیار نہیں کیا جاسکتا۔پس جماعتی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ جماعت میں ہمیشہ نئی نئی اصلاحات کی جائیں۔بے شک ان اصلاحات میں غلطیاں بھی ہوں گی دوست ان غلطیوں کو پکڑیں لیکن ان غلطیوں پر گھبر انا نہیں چاہئے ورنہ کام کرنے والے نئے قدم اُٹھانے سے گھبر ائیں گے اور ترقی نہیں کر سکے گی۔پس آپ جرح ضرور کریں اور جب کوئی غلطی دیکھیں تو منتظمین کو توجہ دلائیں تاکہ اس غلطی کی اصلاح کی جائے لیکن ساتھ ہی خوشی سے نئی قیود اور اصلاحات کو برداشت کریں کیونکہ ان قیود کا بڑھانا جماعت کی ترقی کی علامت ہے تنزل کی نہیں۔اسی طرح کام کرنے والوں کو توجہ دلانا بھی ضروری ہے اگر چہ میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ توجہ دلانے کے باوجود بھی اصلاح نہیں کی جاتی۔ابھی ایک دوست نے جو کراچی سے آئے ہوئے ہیں اور جنہوں نے صرف چند دن ہوئے بیعت کی ہے