انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 472 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 472

انوار العلوم جلد 23 472 قرآن مجید کی بیان کردہ تین صداقتیں سائنس کی۔۔۔ریسرچ انسٹیٹیوٹوں کے مقابلہ میں بلحاظ اپنے سامان اور کارکنوں کے کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اصل کام یہ ہے کہ انسان میں اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی روح پیدا ہو جائے اور یہ روح محنت اور ایثار سے پیدا ہوتی ہے۔جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ ہم نے بہت بڑے دُشمن سے مقابلہ کرنا ہے تو ہمارے اندر کام کرنے کی رُوح بڑھ جائے گی۔ہمارے اس مقابلہ کی بنیاد روپے پر نہیں ہے۔دُنیا کے مقابلہ میں ہمارے پاس روپیہ ہے ہی نہیں۔نپولین کا قول ہے کہ ناممکن کا لفظ میری ڈکشنری میں نہیں ہے۔اس کے یہی معنی تھے کہ نپولین کسی کام کو ناممکن نہیں سمجھتا تھا۔ہاں وہ اُسے مشکل ضرور سمجھتا تھا اور پھر ہمت سے اُس کام کو سر انجام دیتا تھا۔دُنیا میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں کہ وہ اپنی اولوالعزمی سے سامانوں کے مفقود ہونے کے باوجود کامیابی کا راستہ نکال لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت مسلمانوں پر جو غفلت اور جمود کی حالت طاری تھی اُس کو بیداری سے بدلنا نا ممکن سمجھا جاتا تھا لیکن آپ نے مسلمانوں کے اندر اُمید کی کرن پیدا کر دی اور اُنہیں بیدار کر دیا۔یورپین مصنفین حضرت سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پہلے کے ہندوستانی مسلمان لیڈروں یعنی سرسید احمد خاں، امیر علی وغیرہ کو اپالوجسٹ (APALOGIST) یعنی معذرت کرنے والے قرار دیتے تھے لیکن وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا طریق اسلام کی طرف سے معذرت خواہانہ نہیں بلکہ جارحانہ حملے کا طریق ہے۔ابھی ایک مشہور مغربی مصنف نے تحریک احمدیت کا ذکر اسی انداز میں کیا ہے۔وہ کہتا ہے کہ مستقبل کے متعلق ایک ایسی جگہ بھی آتی ہے جہاں پر مؤرخ کو خاموش ہونا پڑتا ہے۔تحریک احمدیت کے مستقبل کے ذکر میں اُس نے لکھا ہے کہ بہت سے گھوڑے جو گھوڑ دوڑ کی ابتداء میں کمزور نظر آتے ہیں وہی بسا اوقات اول نکلتے ہیں۔حقیقت بھی یہی ہے کہ اس وقت مذہبی دُنیا میں جو تغیرات پیدا ہوئے ہیں اور مسلمانوں میں جس قدر بیداری نظر آتی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے نتیجہ میں ہے۔اب